کبھی یہ علاقے بھی آباد تھے،زندگی یہاں بھی کھلھلاتی تھی،پورے کے پورے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے

 پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے باعث گاؤں کے گاؤں اُجڑ گئے، جس کے بعد شدید

انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان ہلال احمر خیبرپختونخوا نے لوئر کوہستان، اپر کوہستان اور کولئی پالس میں نقصانات کی ابتدائی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق تینوں اضلاع کے مختلف علاقوں میں گاؤں کے گاؤں اُجڑ گئے۔ رپورٹ کے مطابق 630 گھر مکمل تباہ ہو گئے جب کہ 250 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچاہے۔رپورٹ میں اب تک 23 افراد کے جاں بحق اور 10 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر زرعی زمین، مویشیوں کی ہلاکت ، کئی علاقوں کا زمینی راستہ منقطع اور پانی کی لائنیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔ زمینی راستے منقطع ہونے کی وجہ سے متاثرین کو خوارک اور پانی کی شدید قلت کا سامناہے۔ابتدائی معلومات اکٹھی کرنے والی ٹیموں نے کئی روز کی مشقت کے بعد متاثرہ علاقوں کی طرف پہنچانا شروع کردیا ہے۔ پاکستان ہلال احمر خیبر پختونخوا نے ممکنہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے دیگر فلاحی اداروں اور عالمی تنظیموں سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں