عمران خان نے اسرائیل اور بھارت سے فنڈ منگوایا، چیف الیکشن کمشنر 8 سال بعد بھی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کررہے؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے نہیں، اسرائیل اور بھارت سے

فنڈ عمران خان نے منگوایا۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے استفسار کیا کہ چیف الیکشن کمشنر 8 سال بعد بھی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کررہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن پاکستان کی تاریخ کے جھرلو الیکشن تھے، تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی، جس کے بعد ملک پر نااہل حکومت مسلط کی گئی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ 2018 کی اپوزیشن اگر سیاست کو مقدم رکھتی تو ریاست کا اللّٰہ ہی حافظ تھا، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ریاست کو بچانا ہے سیاست تو ہوتی رہے گی۔اُن کا کہنا تھا کہ میں جانتا تھا کہ وزیر اعظم کی کرسی کانٹوں کی سیج ہے، 1992 میں ایک صدر نے مجھے کہا کہ وزیر اعظم بن جاؤ، یہی آفر جنرل پرویز مشرف نے بھی کی۔شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ اگر مجھے وزیر اعظم بننا ہوتا تو میرے پاس بہت سے موقع تھے، لیکن مجھے کوئی لالچ نہیں تھی،2017 میں مجھے میاں نواز نے وزیراعظم کے لیے نامزد کیا تو میں نے پنجاب میں رہنے کو تریج دی تاکہ پنجاب میں منصوبے مکمل کروں۔انہوں نے کہا کہ مجھے رات کو بھی نیند نہیں آتی، خود سے پوچھتا ہوں کیوں ہماری قوم پیچھے رہ گئی، ہم کیوں اپنے راستے کا تعین نہ کرسکے؟وزیراعظم نے کہا کہ یہ آئین پاکستان کی وحدت کی علامت ہے، جو ہماری رہنمائی کرتا ہے، یہ معزز ایوان 1973ء کے آئین کی ماں ہے، یہاں اس کی تخلیق ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس آئین میں تمام اداروں کے اختیارات متعین کر دیے گئے ہیں، مقننہ، عدلیہ اور دیگر اداروں کے اختیارات آئین میں واضح ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل نے کہا کہ سب سے زیادہ کرپشن پی ٹی آئی کے دور میں ہوئی، پچھلی حکومت نے ترکی، سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات خراب کیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے سب سے ہمارے تعلقات خراب کیے اور ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ڈکٹیشن لیتے ہیں، انہوں نے روس سے سستا تیل لینے کی بات کی، پوچھنے پر ماسکو سے تردید سامنے آئی۔شہباز شریف نے کہا کہ سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ روس سے سستی اور اچھی گندم مل رہی ہے، تو ہم نے کہا کہ ہم لیں گے، سب کو بتا دیا کہ ہم گندم لیں گے اور ہمیں کسی کی پرواہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بارشوں سے بہت نقصان ہوا ہے، پورے پاکستان میں بارش سے جہاں بھی نقصانات ہوئے ہیں اس کا مداوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ بارشوں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کررہے ہیں، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کسانوں کے نقصان کا ازالہ بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت امدادی کاروائیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہے، صوبائی حکومتیں دن رات کام کر رہی ہیں، امدادی پیکیج میں مزید اضافہ کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ کل اس حوالےسے ایک اور اہم اجلاس طلب کیا ہے، کسانوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کریں گے، بارش سے متاثرہ افراد کی امداد کا سلسلہ جاری ہے، وفاق اور این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں کی مدد کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں