پاکستانی کرنسی کو روپیہ کیوں کہا جاتا ہے، دنیا کے مختلف ممالک کی کرنسی کے ناموں کے پیچھے چھپے دلچسپ حقائق

کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کی کرنسی پر ہوتا ہے جس ملک کی کرنسی دنیا کے ایک حساب کے تحت مضبوط ہوگی اسی ملک کی معیشت مضبوط ہوگی اور دنیا کی نظر میں اس ملک کی ترقی دنیا کی نظر میں مستحکم قرار پائے گی- دنیا کےاندر مختلف ممالک کی زبان اور ثقافت کی طرح اس کی کرنسی بھی مختلف ناموں سے پکاری جاتی ہے- اس کی کیا وجہ ہوتی ہے اس کا جواب ہمیں آکسفورڈ کی ڈکشنری سے مل سکتا ہے جس کے تحت مختلف ملک کی کرنسی کے مختلف ناموں کی وجہ کچھ اس طرح سے ہے-

وپیہ
پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا وہ تین ممالک ہیں جن کی کرنسی کو روپیہ کہا جاتا ہے- درحقیقت روپیہ اردو زبان کا لفظ نہیں ہے بلکہ یہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چاندی کے ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل سکے کے لیے لفظ روپیہ کا استعمال شروع کیا گیا جو کہ قیام پاکستان کے بعد اس کی کرنسی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا- اور اب اس لفظ کا استعمال اس طرح کیا جاتا ہے کہ سننے والے کو یہ لفظ اردو زبان کا ہی لفظ محسوس ہوتا ہے-

ڈالر
ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی ہے جو امریکہ آسٹریلیا، کینیڈا، سنگاپور اور کئی دیگر ملکوں میں استعمال ہوتا ہے- حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈالر لفظ کا ماخذ انگریزی نہیں بلکہ جرمن زبان ہے۔ ڈالر کا لفظ Joachimsthalسے ماخوذ ہے جو چاندی سے مالا مال ہاوخم وادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس وادی سے حاصل ہونے والے چاندی سے سکے بنائے جاتے تھے جو کہ jaochimsthaler کہلاتے تھے جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوتے تھیلر اور پھر ڈالر میں تبدیل ہو گیا-

ریال
سعودی عرب، قطر، ایران یمن اور عمان کی کرنسی کو ریال کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ عام انسان کی سوچ یہی ہوگی کہ ریال عربی زبان کا لفظ ہے جب کہ حقیقت میں اس لفظ کا عربی زبان سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جو کہ ریفالس سے نکلا ہے- ریفالس کے معنی شاہی ہوتے ہیں اس وجہ سے ان علاقوں میں شاہی حکام کی جانب سے جاری ہونے والی کرنسی کو ریفالس کی بگڑی ہوئی شکل ریال کا نام دیا گیا ہے-

پاؤنڈ
برطانیہ کی کرنسی کو پاؤنڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے یہ پاؤنڈ برطانیہ کے علاوہ مصر، لبنان، سوڈان اور شام میں بھی بطور کرنسی استعمال کیا جاتا ہے- یہ لفظ لاطینی لفظ پاؤنڈس سےنکلا ہے جس کے معنی وزن کے ہیں۔ ماضی میں پاؤنڈ سونے کے مختلف وزن کے سکوں کی صورت میں استعمال کیا جاتا تھا جو وقت کے ساتھ کرنسی نوٹوں میں تبدیل ہو گیا مگر اس کا نام ابھی بھی پاؤنڈ ہے-

دینار
کویت، اردن، الجزائر اور سربیا کی کرنسی کو دینار کہا جاتا ہے۔ دینار کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ دیناریس سے نکلا ہے- قدیم روم میں دینار کا استعمال سب سے پہلے نظر آتا ہے یہ چاندی کے بنے ہوئے سکوں کو کہا جاتا تھا جو کہ اب کئی ملکوں کی کرنسی بن چکی ہے-

یوآن ۔ ین اور وون
چین کی کرنسی یوآن، جاپان کی کرنسی ین اور کوریا کی کرنسی وون کہلائی جاتی ہے جو کہ ان تمام کی زبانوں میں ایک ہی معنی رکھتی ہے- جس کا مطلب گول یا گول سکہ ہوتا ہے اور ان تمام ممالک میں ناموں کے ذرا سے فرق سے یہ رائج ہیں-

کرونا
کرونا کا نام سامنے آتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک بیماری ہے مگر درحقیقت شمالی یورپ کے کئی ممالک جن میں سوئیڈن، ناروف ڈنمارک آئس لینڈ شامل ہیں- ان کی کرنسی کا نام کرونا ہے اور کرونا درحقیقت ایک لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج کے ہیں-

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ملک کی کرنسی کے نام کا انحصار ان کی ثقافت سے بہت قریبی ہوتا ہے اور قومیں اپنی کرنسی کے نام کو صدیوں تبدیل نہیں کرتی ہیں جو ان کی شناخت ہوتی ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں