مسلہ کشمیر پرسعودی عرب کھل کر پاکستانی موقف کی حمایت میں آگیا‘بھارتی میڈیا پر کہرام

او آئی سی کے وزراءخارجہ کی جانب سے کھل کر حمایت اسلام آباد کی بہت بڑی کامیابی ہے‘جوممالک بھارت کی ناراضگی کے ڈر سے کشمیر کا نام نہیں لیتے تھے وہ آج کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کررہے ہیں.ماہرین کا خراج تحسین

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 22 مارچ ۔2022 ) سعودی عرب ‘قازقستان سمیت متعدداسلامی ممالک نے کھل کرمسلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی تائید ہے اس سے پہلے بیشتر عرب ممالک کشمیر کے مسلہ کے ایک علاقائی مسلہ قراردیتے رہے ہیں ماہرین او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے موقف میں تبدیلی کو پاکستان کی بڑی کامیابی قراردے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بہت سارے عرب ممالک سمیت او آئی سی کے رکن ممالک بھارت کی ناراضگی کے ڈر سے کشمیر کا نام تک لینے سے ڈرتے تھے آج وہ کھل کر پاکستانی موقف کی حمایت کررہے ہیں جس پر حکومت مبارکباد کی مستحق ہے.

پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ یمن کے عوام کو انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کر رہے ہیں جبکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ عالمی قراردادوں کے مطابق فلسطین کے مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں.او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحہ نے کہاکہ مسلم امّہ کے مفادات کا دفاع کرتا رہوں گا ان کے مطابق یمن تنازع سے وہاں کے عوام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور یمن میں خون ریزی کو فوری بند ہونا چاہیے انہوں نے اس مسئلے کا پرامن اور پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا. او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دی جائے، انڈیا کا پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اقدام عالمی قوانین کے منافی ہے او آئی سی یو این قراردادوں کے مطابق کشمیر تنازع کے حل پر زور دیتی ہے.نائیجر کے وزیر خارجہ حسومی مسعودو نے اپنے خطاب میں انتہا پسندی اور اسلامو فوبیا کی شکل میں امت کو درپیش چیلنجز کا ذکر کیا سعودی عرب کے وزیر خارجہ و او آئی سی سربراہ اجلاس کے چیئرمین فیصل بن فاران السعود نے کہا کہ عالمی قراردادوں کے مطابق فلسطین کے مسئلہ کا پر امن حل چاہتے ہیں، ہم جموں کشمیر کے عوام کی مکمل حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے.سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی اور اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر پاکستان کو مبارکباد دی سعودی وزیرخارجہ نے افغانستان میں امن کے حصول اور افغانستان میں المناک انسانی بحران کو روکنے کے لیے مسلم ممالک کے کردار پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین پر فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گا، ہم عالمی قراردادوں کے مطابق فلسطین کے مسئلہ کا پر امن حل چاہتے ہیں، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا حق ہے.

انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے عالمی برادری کوکردار ادا کرناچاہیے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لئے انسانی بنیادوں پر ٹرسٹ فنڈ کاقیام ایک خوش آئند اقدام ہے، اس فنڈ کے ذریعے نقل مکانی کرنے والے افراد کی مدد کی جاسکے گی قازقستان کے نائب وزیراعظم مختارتلبردی نے کہا کہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد و اتفاق اورچیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر اورمسئلہ فلسطین کا حل ضروری ہے.قازقستان اور ایشیا گروپ کے نمائندے کے طورپر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی پاکستان کو بہترین میزبانی پر مبارکباد پیش کرتاہوں، اس وقت دنیا کو عالمی سطح پر کئی تنازعات کا سامنا ہے، روس یوکرین تنازعہ سے عالمی معیشت دباﺅکا شکار ہے.انہوں نے کہا کہ قازقستان مسئلہ کشمیر کا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل چاہتا ہے، سلامتی کونسل کی قرارداوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا بھی منصفانہ حل چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ دیرپاتعلقات قازقستان کی ترجیحات ہیں، افغانستان کی صورتحال پر ہمیں تشویش ہے، افغانستان کو انسانی بنیادوں پر فوری امداد کی ضرورت ہے.ادھر وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام ممالک پاکستان کو مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے یقین دہانی کرواچکے ہیں اجلاس کے دوسرے روز اور حتمی اعلامیے میں کشمیر پر پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید وحمایت کی جائے گی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ مسلمان ممالک کے باہمی تنازعات پرامن طریقے سے حل ہوں اور عالم اسلام کے ایشوزپر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے.ادھر بھارتی ذرائع ابلاغ نے توپوں کا رخ او آئی سی کے اجلاس کی جانب کرلیا ہے ایک معروف بھارتی نشریاتی ادارے نے نئی دہلی کو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ ملنے پر پاکستان سے وضاحت طلب کرنے تک کا مطالبہ کردیا ہے ماضی میں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہونے کی وجہ سے بھارت کو مبصرکے طور پر اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں بلاجاتا رہا ہے . کئی بھارتی نشریاتی ادارے ڈھکے چھپے الفاظ میں سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ملکوں سے جواب طلب کرنے کی بات بھی کررہے ہیں جبکہ کئی اسے مودی سرکار کی ناکامی قراردے رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں