6 سال سے خواتین کی نامناسب ویڈیوز بنانے والے کو سزا

سنگاپور: 6 سال سے خواتین کی نامناسب ویڈیوز بنانے والا چینی ریسرچر آخر کار پکڑا گیا، عدالت نے اسے 10 ماہ کی قید کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق سنگاپور میں خواتین کی نامناسب تصویریں اور ویڈیوز بنانے پر ایک چینی محقق کو 10 ماہ کی قید دی گئی ہے، ننیانگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے 30 سالہ ملازم گوو زیہونگ اپنے موبائل سے خواتین کی نامناسب تصویریں کھینچتا اور ویڈیو بناتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق گوو زیادہ تر ان خواتین کا پیچھا کرتا تھا جنھوں نے اسکرٹ یا ٹائٹس پہن رکھی ہوتی تھیں اور ورزش یا وہ یوگا کر رہی ہوتی تھیں، اور یونیورسٹی کے مختلف حصوں میں اس نے ہزاروں کی تعداد میں تصویریں بنائیں۔

پراسیکیوشن کی جانب سے گوو کو ’پروفیلک سیریل اپ سکرٹر‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس نے ہر سال سینکڑوں نامناسب تصویریں بنائیں اور تقریباً 4 سو سے زائد خواتین اس کا نشانہ بنیں۔

گوو کو جرم ثابت ہونے اور خواتین کی توہین کرنے پر 10 ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی، گوو کا تعلق چین سے ہے، اس نے 2015 میں خواتین کی نامناسب تصویریں کھینچنے اور ویڈیو بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم تصویریں اور ویڈیوز بنانے کے بعد پہلے ہارڈ ڈسک اور پھر اپنے لیپ ٹاپ میں منتقل کر دیتا تھا۔

اس نے یونیورسٹی سے باہر بھی خواتین کو نشانہ بنایا، اور مارکیٹوں، سڑکوں اور شاپنگ مالوں میں خواتین کی تصویریں کھینچیں اور ویڈیوز بنائیں۔

11 اپریل 2021 کو تصویریں کھینچتے ہوئے وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا، وہ اس وقت لوگوں کی نظروں میں آیا جب ایک مال میں سیڑھیاں چڑھتی لڑکیوں کے پیچھے انتہائی قریب چلتے ہوئے ہاتھ میں موبائل تھامے ہوئے تھا اور کیمرہ اوپن تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں