انتہا پسند ہندوؤں کے آگے نعرہ تکبیر بلند کرنے والی لڑکی کون ہے؟ انٹرویو سامنے آ گیا

کرناٹک: جنونی ہندوؤں کے ایک گروہ کے اللہ اکبر کے نعروں سے دل دہلانے والی بھارتی مسلمان لڑکی کے بارے میں تفصیلات سامنے آ گئیں، کالج طالبہ مسکان، جو کامرس کے دوسرے سال کی طالبہ ہے، نے بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دے کر انتہا پسند ہندوؤں کو منہ توڑ جواب دے دیا۔

بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر مانڈیا میں آج ایک کالج کے باہر زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے انتہا پسند جنونی ہندوؤں کے ایک ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر نعرۂ تکبیر بلند کرنے والی با حجاب طالبہ مسکان نے انٹرویو میں کہا کہ وہ جب ہندوؤں کا تنہا سامنا کر رہی تھیں تو ایسا کرتے ہوئے وہ بالکل پریشان نہیں تھیں، میں حجاب پہننے کے اپنے حق کے لیے اسی طرح لڑتی رہوں گی۔

یہ واقعہ آج کرناٹک کے شہر مانڈیا کے پری یونیورسٹی کالج میں پیش آیا تھا، جب مسکان اپنی اسکوٹر پر کالج پہنچیں، جے شری رام کے نعرے لگاتے جنونی ہندوؤں کے ایک گروہ نے انھیں گھیر لیا، اور نعروں سے ہراساں کرنے لگے، تب انھوں نے پوری ایمانی قوت کے ساتھ ان کا سامنا کیا اور نعرۂ تکبیر بلند کرنے لگیں۔

جنونی ہندو مسلمان طالبہ کے پیچھے دروازے تک گئے، تاہم سیکیورٹی اہل کار نے ان کی مدد کی اور مسکان کو بہ حفاظت کالج کے اندر لے گئے۔

مسکان نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ میں بالکل پریشان نہیں تھی، جب میں کالج میں داخل ہو رہی تھی تو وہ مجھے صرف اس لیے اجازت نہیں دے رہے تھے کہ میں برقع پہن رکھا تھا۔ انھوں نے جے شری رام کا نعرہ لگانا شروع کیا، تو میں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگانا شروع کر دیا، پرنسپل اور لیکچررز نے میرا ساتھ دیا اور میری حفاظت کی۔

مسکان نے بتایا کہ وہ کون لوگ تھے، میں نے صرف 10 فی صد لوگوں ہی کو پہچانا جو کالج کے طالب علم ہی تھے، لیکن باقی باہر کے لگتے تھے۔ ہماری ترجیح تو ہماری تعلیم ہے، وہ ہماری تعلیم کو کیوں برباد کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کرناٹک بھر کے کالجوں میں ایک طرف حجاب پہنے طالبات اور دوسری طرف زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کے احتجاج میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، یہ احتجاج گزشتہ ماہ اُڈوپی کے گورنمنٹ گرلز پی یو کالج میں شروع ہوا، جب 6 طالبات نے انکشاف کیا کہ انھیں حجاب پر اصرار کی وجہ سے کلاسوں سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ احتجاج اُڈوپی اور دیگر شہروں جیسے مانڈیا اور شیواموگا کے مزید کالجوں تک پھیل گیا، اور کالج کے عملے نے حجاب پر پابندی لگا دی، حالانکہ قواعد اس کی اجازت دیتے ہیں، جس کے بعد انتہا پسند ہندو زعفرانی اسکارف پہن کر اور نعرے لگا کر تصادم کی کوششیں کر رہے ہیں۔

مسکان نے کہا کہ یہ صرف پچھلے ہفتے ہی شروع ہوا ہے، اس سے پہلے ہم ہر وقت برقع اور حجاب میں ہوتی تھیں، جب میں کلاس کے اندر پہنچتی تو حجاب رہتا لیکن برقع اتار دیتی تھی، حجاب بہ طور مسلمان لڑکی ہمارا ایک حصہ ہے، ہمیں پرنسپل نے کبھی کچھ نہیں کہا، یہ باہر والوں نے شروع کر دیا ہے، جس کے بعد اب پرنسپل نے بھی ہمیں برقع نہ پہننے کا مشورہ دیا ہے، لیکن ہم حجاب کے لیے احتجاج جاری رکھیں گے۔

مسکان نے کہا واقعے کے بعد اس کے بعض ہندو دوستوں نے اس کا ساتھ دیا ہے، میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی ہوں، صبح سے ہر کوئی ہمیں کہہ رہا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے کہ حجاب کے معاملے پر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں اور حکومت نے تمام اسکولوں اور کالجوں کو 3 دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں