بیوی کو جانو کہنا صحیح یا غلط؟

اگر آپ اپنی بیوی کو جانو یہ پھر کسی اور پیار بھرے نام سے پکارتے ہیں تو کیا ٹھیک ہے ایسا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے کیسا ہے حدیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ ؓ کو محبت اورپیار سے عاش اور کبھی حمیرا کے نام سے پکار ا کرتے تھے اس لیے ہم یقین سے کہے سکتے ہیں کہ بیوی کو پیار کے ساتھ پکارنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنیبیو ی سے کتنا محبت بھرا معاملہ تھا ۔آپ حضرت عائشہ ؓ کو پیار سے حمیرا پکارتے تھے جو کہ حضر ت عائشہ ؓ کا لقب ہے اور ہمراہی کی تصور ہے جس کے معنی ہے سرخ رنگ والی یہی گورے رنگ والی یا پھر اس طرح کبھی عاش کے نام سے پکارتے یہ سب اپنی محبوبہ بیو ی کو پکارنے کے انداز تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی سنت ہے کہ بیوی کو پیار بھرے نام سے پکارا جائے آج اس سنت کو گھروں میں رکھنے کی سخت ضرورت ہے اس پر عمل کرنے سے محبت بڑھتی ہے اور نفرت ختم ہوتی ہے کیونکہ کہ آج کل گھروں میں نفرت اس لئے ہے کہ کوئی کسی کے ساتھ سیدھے منہ بات نہیں کرتا دنیا کی دوڑ لگی ہوئی ہے انسان مشن کی طرح کام کررہے ہیں ۔کیونکہ نا تو قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی احایث اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو پڑھنے اور اُس پر عمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہےایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر سے گھر میں تشریف لائے تو صحن میں حضرت عائشہ ؓ کو دیکھا کہ وہ پیالہ سے پانی پی رہی ہیں ۔۔تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے حمیرا تھوڑا سا پانی میرے لیے بھی بچنا ۔غور کیجئے کہ بیوی اُمتی ہے اور شوہر بنی ہے برکتیں نبی کے ساتھ وبستہ ہوتیں ہیں سبحان اللہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی کے بچیے ہوئے پانی کو پینا چاہتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں