سعودی عرب میں غیر ملکی ورکروں کے لیے نئی شرائط عائد ۔۔۔ پاکستانیوں کے کام کی تفصیلات

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں بیرونی ممالک سے کام کی غرض سے موجود اور نئے آنے والے ورکروں اور غیر ملکی کارکنان کے لیے نئی شرائط عائد کردی گئی ہیں ۔ سعودی عرب کے نئے ملازمتی نظام کے تحت اب ورکروں کو نئی پابندیوں کی بھی لازمی طور پر پابندی کرنا ہوگی ۔ ملازمت کے نظام میں آجر اور اجیر یعنی مالک اور ملازم سے متعلق

شرائط متعین کردی گئی ہیں ۔ عرب اخبار کے مطابق سعودی وزارت افرادی قوت نے غیرملکی ورکروں اور کارکنوں سے متعلق تین شرائط مقرر کی ہیں ۔سعودی عرب کے نئے قانون کے مطابق غیر ملکی کارکن کا ہنر مند ہونا لازمی ہوگی ۔ سعودی عرب کے قانون محنت کے مطابق مطلوبہ فرد میں پیشہ وارانہ صلاحیت موجود ہونی چاہیے ۔ سعودی عرب میں پہلی بار آںے کے بعد سے موجودہ آجر کے یہاں ایک سال تک کام کرچکاہو، غیر ملکی کارکن کے پاس ملازمت کا مصدقہ معاہدہ موجود ہو۔ وزارت افرادی قوت سعودی عرب نے ملازمت کے نئے معاہدے میں ایک نئی پابندی بھی لگائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نئے ادارے میں ملازمت کے لیے دو کام کرنا ہوں گے ۔جوبائیڈن امریکی صدر بننے کے قریب، سیکیورٹی انتظامات شروع ہو گئےپہلا یہ کہ نئے آجر کی جانب سے” قوی پلیٹ فارم” کے ذریعے ملازمت کی پیشکش کی گئی ہو۔ دوسرا یہ کہ موجودہ آجر کو ملازمت جاری نہ رکھنے کے حوالے سے پیشگی اطلاع دینا ہوگی ۔ جس میں بتا یا جائے گاکہ فلاں آجر کے پاس وہ ملازمت کرے گا۔ وزارت افرادی قوت نے نئےآجر کے حوالے سے جن شرائط کا تعین کیا ہے وہ یہ ہیں ۔ غیر ملکی کارکنان کے لیے ویزا حاصل کرنے کا اہل ہوگا۔ نیا ادارہ یا آجر تحفظ محنتانہ پروگرام کے ضوابط کا پابند ہو۔ سعودی عرب میں ملازمت کے معاہدوں کے آن لائن سسٹم میں اندراج اور معاہدے ملازمت کی توثیق کے پروگرام کا پابند ہو اور نیا آجر اپنی کارکردگی کے ازخود احتساب کے ضوابط کی پابندی کررہاہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں