شہباز شریف کی گرفتاری : پارٹی قیادت کسے سونپ دی گئی ؟ نوازشریف کا لندن سے ٹیلی فون، نیا نام سامنے آ گیا

لاہور(ویب ڈیسک) نیب نے آج منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کر لیا ہے۔شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے متعدد پارٹی رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں۔نواز شریف نے آن لائن اجلاس بھی طلب کر لیا۔مریم نوا زکو اہم ذمہ داری ملنے کا بھی امکان

ظاہر کیا جا رہا ہے۔مریم نوازکو احتجاجی تحریک کی قیادت سونپی جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے مریم نواز کو ہدایات دے دی ہیں کہ وہ پارٹی کی قیادت سنبھالیں۔پارٹی اجلاس کی بھی قیادت کریں گی۔ن لیگ میں ایڈوئزائری بورڈ بنانے کی بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کی گرفتاری کے پیش نظر متبادل قیادت کیلئے پارٹی میں مشاورت شروع کردی گئی ہے۔اس حوالے سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازکا پارٹی میں کردار مزید بڑھ جائیگا جبکہ پارلیمنٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی عدم موجودگی میں بزنس ایڈوائزری بورڈ اپوزیشن لیڈر کے متبادل کے طور پر کام کرے گا ۔شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مریم نواز نے ملکی سیاست بالخصوص احتجاجی تحریک میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو نیب نیازی گٹھ جوڑ نے گرفتار کیا۔جن لوگوں نے پاکستان کی خدمت کی انہیں نشان عبرت بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ دو سال سے نیب نیازی گٹھ جوڑ اپوزیشن کی آواز کو دبانا چاہتا ہے۔عمران خان کے حکم پر آج نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کیا۔ پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا،ہر مخالف کی آواز کو بند کیا جا رہا ہے۔مسلم لیگ ن کی قیادت دلیر اور بہادر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔عمران خان کی ہمشیرہ اور معاونین خصوصی پر سنگین الزامات ہیں، انہیں نہیں بلایا جاتا۔ اربوں کھربوں کھانے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا،پی ٹی آئی حکومت نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں دھاندلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں