“کشمیر جمعہ کے دن آدھ گھنٹہ باہر سڑک پر کھڑے ہونے اور ہارن بجانے سے آزاد نہیں ہو گا اور نہ ہی کسی سڑک کا نام تبدیل کرنے سے، اس کا واحد حل۔۔۔” معروف کالم نویس نے حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا دیا

لاہور (کالم: ناصر چودھری) اصلی سرینگر ہائی وے تو وہ 295 کلومیٹر لمبی شاہراہ (NH-44) ہے جو جموں سے سرینگر جاتی ہے اور پچھلے 73 سال سے بھارت کے ناجائز قبضہ میں ہے، لیکن پاکستانی قوم کو مبارک ہو کہ عمران خان حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کا”اصلی تے وڈا“ فارمولا ڈھونڈ لیا ہے۔ 5 اگست کو اسلام آباد اور مری سے مظفر آباد جانے والی سڑک کا نام کشمیر ہائی وے سے تبدیل کرکے سرینگر ہائی وے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس دن مقبوضہ کشمیر، جموں اور لداخ پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کو (اپنے طور پر) باضابطہ قرار دینے کا ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ 

روزنامہ پاکستان میں ناصر چودھری نے اپنے کالم میں لکھا کہ اس ”مجاہدانہ“ فیصلہ سے بھارت عالمی برادری میں ویسی تنہائی کا دوبارہ شکار ہو جائے گا جیسا ایک سال پہلے قبضہ کے وقت عمران خان نے ایک جمعہ کو آدھ گھنٹہ کے لئے قوم کو باہر سڑکوں پر باہرکھڑا کر کے کیا تھا۔ یہ معمہ آج تک جواب طلب ہے کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدام سے دو ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کو 22 جولائی کو کیوں اچانک واشنگٹن طلب کرکے ”ثالثی“ کی گول مول پیشکش کی تھی اور اس کے بعد نریندر مودی نے وہ حرکت کی جس کی بھارت کو پچھلے 72 سال میں کبھی ہمت نہیں ہوئی تھی اور جس کے جواب میں ہمارا جواب محض ہومیو پیتھک بیان بازی تک محدود رہا تھا۔

البتہ قبضہ کے اگلے مہینہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان نے ایک مشہور تقریر ضرور کی اور عمران خان کے پرستاروں نے اتنی خوشیاں منائی تھیں جیسے بس اسی ایک تقریر کی دیر تھی ورنہ کشمیر کب کا آزاد ہو چکا ہوتا۔ ہو سکتا ہے اس سال بھی اگلے مہینہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں وزیر اعظم ایک اور مشہور زمانہ تقریر کر ڈالیں اور اس میں بھی وہ اپنا ”عمرانی“ تاریخ اور جغرافیہ بیان کریں اور ان کے پرستار اسی طرح دادو تحسین کے ڈونگرے برسائیں۔

 ایک زمانہ تھا جب برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کی تقریروں کا طوطی بولتا تھا لیکن اس کے پیچھے ان کی پرفارمنس بھی تھی۔چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں شکست کو فتح میں تبدیل کیا تھا اور ایک نیم مردہ قوم میں نئی جان اور تباہ حال قوم کو دوبارہ کھڑا کیا تھا۔ عمران خان کی تقریروں کا حوالہ دینا خالی ٹین ڈبہ بجانے جیسا ہے یعنی تقریریں ہی تقریں، کارکردگی زیرو۔معیشت بیٹھ گئی ہے، گوورننس تباہ حال اور عوام بدحال ہو چکے ہیں۔ملک میں اس وقت مافیاز کا راج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے ““کشمیر جمعہ کے دن آدھ گھنٹہ باہر سڑک پر کھڑے ہونے اور ہارن بجانے سے آزاد نہیں ہو گا اور نہ ہی کسی سڑک کا نام تبدیل کرنے سے، اس کا واحد حل۔۔۔” معروف کالم نویس نے حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا دیا

تبصرے بند ہیں