ملک میں پیٹرول کا مصنوعی بحران، وفاقی حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرول کے مصنوعی بحران کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنادی ، گزشتہ روزکابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے پیٹرول بحران کا سخت نوٹس لیا تھا۔تفصیلات کے مطابق ملک میں پیٹرول کامصنوعی بحران کی تحقیقات کیلئے وفاقی حکومت نے کمیٹی بنادی ہے، تحقیقاتی کمیٹی نے3کمپنیوں کےسی ای اوز کو کل طلب کرلیا، طلب کئے جانے والوں میں ہیسکول،شیل اورگوآئل کمپنی کےسی اوز شامل ہیں۔تحقیقاتی کمیٹی پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی تحقیقات اور آئل کمپنیوں کےموجودہ ذخائرکی جانچ پڑتال کرے گی۔معاون خصوصی ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ پیٹرول بحران ختم کرنےکےلیےحکومت نےکمیٹیاں تشکیل دے دیں ، پیٹرول بحران پیداکرنے والے رعایت کےمستحق نہیں، ذمےداروں کےخلاف سخت ایکشنہوگا، حکومت کو اپنی ذمے داری کا احساس ہے، عوام کے مسائل کاحل ضروری ہے۔گزشتہ روزکابینہ اجلاس میں وزیراعظم نےپیٹرول بحران کا سخت نوٹس لیا تھا ، کابینہ اجلاس میں عمرایوب اور ندیم بابر سے سخت سوالات بھی کئے گئے تھے۔عمران خان نے کہا تھا ایشیا میں سب سے سستا پٹرول میں نے کیا، غائب کس نے کیا؟عام آدمی کوریلیف دینے سے پیچھےنہیں ہٹوں گا اور وزارت پٹرولیم اور اوگرا کو تین دن کے اندر پیٹرول سپلائی معمول پر لانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔وزیراعظم نے چیئرمین اوگراکوبھی طلب کرکے وارننگ دی تھی کہ بحران کےذمہ دارنکلےتورعایت نہیں ہوگی۔بعد ازاں پیٹرول بحران پر وزارت پٹرولیم نے آئل مارکیٹنگ کمپنیز کیخلاف کارروائی کیلئے خط لکھا تھا، جس میں کمیٹی برائے فیول کرائسس نے دو نجی کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔دونوں کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا حکم فیول ہولڈنگ ثابت ہونے پر دیا گیا، دونوں نجی آئل کمپنیوں کے سی او اوز کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں