حکومت کا کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیلئے 5 اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان

کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیلئے 5 اگست کو یوم استحصال منائیں گے،

صبح10 بجے ملک بھر اور آزاد کشمیر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور معاون خصوصی معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کر کے سری نگر ہائی وے رکھنے کا اعلان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 31 جولائی2020ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے، کشمیر کے معاملہ پر سفارتی کوششیں مزید تیزکریں گے، ہماری اگلی منزل سری نگر ہے، جو اب زیادہ دور نہیں، کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیلئے 5 اگست کو یوم استحصال منائیں گے، صبح 10 بجے ملک بھر اور آزاد کشمیر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی، لاک ڈائون کے بعد دنیا کو احساس کرنا ہو گا کہ ایک سال سے قید مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر کیا بیت رہی ہے، بڑی جمہوریت کا بھارتی حلیہ بی جے پی نے بگاڑ دیا ہے، بھارت آج عالمی سطح پر تنہا اور شائننگ انڈیا اب برننگ انڈیا میں تبدیل ہو چکا ہے۔جمعہ کو وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور معاون خصوصی معید یوسف کے ہمراہ کشمیر کے حوالہ سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ سال 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے غیر قانونی اقدام کرتے ہوئے علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی جسے کشمیری عوم نے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔

بھارتی اقدام کا مقصد کشمیریوں کو تقسیم کرنا تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کشمیریوں کی جدوجہد میں نئے اضافہ کا دن ہے اور جدوجہد آزادی میںکشمیریوں کا لہو بھی شامل ہے، ہمیں کشمیری عوام کے مشکلات کا مکمل ادراک ہے مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ ایک سال سے ہر قسم کی پابندیوں کیساتھ انتہائی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی گزشتہ ایک سال سے فوجی محاصرے میں ہے اور وادی کو بڑی جیل میں تبدیل کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری پاکستای قوم حق خود ارادیت کے حصول کیلئے کشمیریوں کے ساتھ جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم میں شعور اجاگر کرنا ہے کہ قائد اعظم کشمیر کو کیوں پاکستان کا شہہ رگ سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعطم عمران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں تنازعہ کشمیر کو نئی زندگی دی ہے۔وزیراعظم کے خطاب کے بعد دنیا مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ ہوئی، عمران خان کے پر اثر خطاب کے بعد بھارتی مندوب چہرہ چھپاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ دھڑے بندیوں کے باوجود پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کشمیر کے معاملے پر متحد ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں میںتفرقہ پیدا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوئیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ 5 اگست کو پاکستان کا بچہ بچہ، بزرگ اور ہر شہری کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے باہر نکلے گا، ہم نئی نسل کو بھی مسلہ کشمیر سے آگاہ کریں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق دنیا بھر میں مسلہ کشمیر کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلہ کشمیر پر سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی جائیں گی اس سلسلے میں بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کو خصوص ہدایات جاری کر دی گئیں۔سفارتی مشنز کو کہا گیا کہ وہ لوکل تھنک ٹینک جائیں اور کشمیر سے متعلق پاکستان کے مؤقف اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کریں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 5 اگست کو تمام سفارتی مشنز میں کشمیر کے حوالے تصویری نمائشوں اور کار ریلیز کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جبکہ کنیڈا میں خصوصی کار ریلی ہوگی۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا کو بھی متحرک کیا جائے گا اور بھارتی مظالم کی داستان سوشل میڈیا پر پیش کریں گے۔ وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے کا نام بھی تبدیل کر کے سری نگر ہائی وے رکھنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے صدر کو 9 مراسلے ارسال کر چکا ہوں، مسئلہ کشمیر پر چین، ترکی، ملائشیا سمیت دوست ملکوں نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ترجیحات تبدیل ہوگئی تھیں، تحریک آزادی کا دہشت گردی سے موازنہ کیا جانے لگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کو بھی شکست دی اور افغانستان میںمصالحتی عمل میں بھی ہمارا اہم کردار ہے۔وزیر خارجہ نے ملکی سیاسی صورتحال کے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو کل کوئی دوسرا بھی نہیں بولے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شور شرابے سے پارلیمانی کارروائی میں خلل پیدا کیا جا سکتا ہے تو یہ خام خیالی ہے۔ تنقید سے گھبراتے نہیں لیکن اپوزیشن ہماری آواز دبا نہیں سکتی۔ افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ عید کے موقع پر افغانستان میں جنگ بندی خوش آئند ہے۔افغانستان میں جنگ بندی کے تناظر میں قیدیوں کی رہائی جلد ہوگی اور وہاں جلد امن قائم ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی بھرپور انداز سے کریں گے، عمران خان کی کوششوں اورجدوجہد سے تحریک آزادی کو نئی روح پھونکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے جو بھی اقدامات اٹھائے ہیں ان کا مقصد کشمیریوں کا مقدمہ لڑنا ہے، آج پوری دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست کا دن کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے، یہ دن اس انداز سے منائیں گے کہ بھارت کو بھی پتہ لگ جائے گا کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کھڑا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف نے کہا کہ5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منائیں گے۔ ایک سال قبل بھارتی حکومت نے غاصبانہ قبضہ کیا، اس قبضہ کو کشمیریوں نے تسلیم کیا اورنہ ہی کبھی تسلیم کریں گے، بھارت نے تمام عالمی کنونشن اورمعاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے غیرقانونی مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمارے کشمیریوں کو کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹا دی ہے،5 اگست کو یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان نے کشمیریوں کو کبھی نہیں بھولا بلکہ مزید آگے بڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے ہندوستان کا سچ پوری دنیا کے سامنے آ رہا ہے، کوئی ملک یہ نہیں کہہ رہا کہ بھارت اور غیر قانونی قبضہ شدہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزریاں نہیں ہورہیں۔دنیا نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ریاستی دہشت گردی سپانسر کرنے والا اگر کوئی ملک ہے تو وہ ہندوستان ہے۔ ہندوستان کے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام حق خود ارادیت کے تحت اپنا فیصلہ کریں گے، وہ فیصلہ ہم سب کو معلوم ہے اس کے وقت کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو صبح ایک منٹ کی خاموشی کے بعد اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی قیادت میں یکجہتی مارچ ہوگا۔ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی یکجہتی مارچ ہوں گے جبکہ مظفرآباد میں بھی مارچ ہوگا جس کی قیادت صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں