سعودی عرب کے تمام ریجنزمیں کرفیو میں جزوی نرمی کااعلان

یاض(محمداکرم اسد، وقارنسیم وامق) سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مملکت بھر میں جزوی طور پر 26 اپریل سے کرفیو اٹھانےیعنی نرمی کا فرمان جاری کیا ہے جسکے مطابق صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک لوگوں کو گھروں سے آنے جانے کی اجازت دی گئی ہے البتہ مکہ مکرمہ اور مکمل لاک ڈاون والے محلوں میں چوبیس گھنٹے کا کرفیو جوں کا توں برقرار رہے گا‘.

جبکہ نئے شاہی فرمان کے مطابق مزید اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی بھی ۲۹ اپریل سے ۱۳ مئی تک اجازت دی گئی ہے ان میں ’ تھوک اور ریٹیل کی دکانیں، شاپنگ مالز اور تجارتی مراکز کھولنا شامل ہے، ان تمام مراکز میں سماجی دوری کی شرط پر عملدرآمد لازمی ہوگا‘.

 بیان میں کہا گیا کہ تجاری مراکز میں ایسی اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی جہاں سماجی دوری پر عملدرآمد ممکن نہ ہو مثلا باربر شاپس ، بیوٹی پالرز، سپورٹس کلب، ہیلتھ کلب، سینما گھر، تفریحی مراکز،ریستوران اور قہوہ خانے پر پاپبندی بر قرار رہے گی.

جبکہ ٹھیکیداروں اور فیکڑیوں کو ۲۹ اپریل سے ۱۳ مئی تک بلا قید و شرط کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے،اقتصادی ، تجارتی اورصنعتی سر گرمیوں کے نگراں ادارے وزارت صحت کی مقرر کردہ حفاظتی تدابیر اور بچاو کےانتظامات کی نگرانی کرتے ہیں گےاور یومیہ رپورٹ دیں گے.

 جزوی کرفیو اٹھائے جانے کے دوران سماجی دوری کی شرط پر عملدرآمد ضروری ہوگا. پانچ افراد سے زیادہ شادی کی تقریبات ، تعزیتی اجتماع اور بپلک مقامات پر سماجی دوری کے  کی شرط پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا.بیان کے مطابق مقررہ قواعد وضواابط کی پابندی نہ کرنے والے ادارے بند کردیے جائیں گے اور سخت سزائیں دی جائیں گی.مقررہ مدت کے دوران صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جاتا رہے گا.شاہ سلمان نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ نئی صورتحال کے حوالے سے کرفیو کی بابت مناسب ترمیم کے لیے متعلقہ داروں کے ساتھ یکجہتی پیدا کریں.

شاہ سلمان نے سعودی شہریوں ،مقیم غیر ملکیوں او رسرمایہ کاروں سے کہا ہے کہ وہ فرض شناسی کا مظاہرہ کریں اور وائرس سے بچاو اور حفاظتی تدابیر کی پابندی کرتے رہیں.سعودی میڈیا کے مطابق 29 اپریل سے 13 مئی تک شاپنگ سنٹرز،مالزاوردیگر دکانیں کھلی رہیں گی اس کے علاوہ کنسٹرکشن کمپنیزاورفیکٹریوں میں کام جاری رکھا جائے گا، بیوٹی پارلر،حجام کی دکانیں، کیفے، سینما اور دیگر تفریحی مراکز بند رہیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں