ایران اور افغانستان سے 90 ہزارافراد کے بلوچستان میں داخل ہونے کا انکشاف

کوئٹہ (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-31 مارچ2020ء) پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کا خوف ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ ایسے میں حکومت کو ایران سے زائرین لانے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومتی ارکان کی جانب سے بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس ایران سے آنے والے زائرین کی وجہ سے پھیلا ہے، لیکن اس سب کے بعد بھی زائرین کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔اسی دوران ایران اور افغانستان سے 90 ہزارافراد کے بلوچستان میں داخل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 29 مارچ تک کوئٹہ ایئرپورٹ سے 12 ہزار 938 افراد، تربت کیچ ایئرپورٹ سے 174، تربت ریدگ پوائنٹ سے 218، گوادر گبد پوائنٹ سے 131، تفتان بارڈر سے 6 ہزار 428 افراد پاکستان میں داخل ہوئے جبکہ دوسری جانب چمن بارڈر قلعہ عبداللہ سے 67 ہزار 27، ژوب بارڈر سے 513، پنج پائی بارڈر سے 2 ہزار 266 جب کہ پشین بارڈر سے 155افراد بلوچستان میں داخل ہوئے ہیں۔

یہ تمام افراد ایران اور افغانستان سے داخل ہوئے ہیں ۔ حکام کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ تمام افراد کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے تا کہ کسی بھی قسم کے حالا ت کا سامنا کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں۔ یاد رہے کہ پوری دنیا میں تباہی مچانے والے کورونا وائرس نے اس وقت پاکستان میں اپنا خوف پھیلایا ہوا ہے۔ ہر طرف لوگ اس سے ڈرے ہوئے ہیں۔ ابھی تک پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1800 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ 23 افراد ابھی تک ہلاک ہو چکے ہیں۔حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، اسی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھاتا کہ لوگ گھروں سے باہر نہ آئیں اور ایک دوسرے سے نہ ملیں، کیونکہ کورونا وائرس کو اسی طرح مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔لیکن دوسری طرف پاکستان میں زائرین کو لانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں