حلقہ چڑہوئی میں جماعت کوصرف لیگی ٹکٹ ہولڈرکی غلط پالیسیوں کی وجہ سے نقصان ہورہاہے،ارشدمحمودراجہ

سعودی عرب(اے جے کے نیوز)مسلم لیگ ن یوتھ ونگ سعودی عرب کے صدرارشدمحمودراجہ نے کہاہے کہ حلقہ پانچ چڑہوئی کی سیاست کو کسی اور سے کوئی خطرہ نہیں ، خطرہ ہے تو ایسے اقدامات سے جس سے لوگوں کے حقوق غصب کیے جا رہے ہوں خطرہ ہے تو نا انصافیوں سے، محرومیوں سے ،جہاں سب یونین کونسلز اور ان کے عوام کو ایک آنکھ سے نہ دیکھا جا رہا ہو، خطرہ ہے تو ان استحصال کے شکار کارکنوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے سے جنہیں ساڑھے تین سال سے دیے جانے والے لالی پاپوں سے، خطرہ ہے تو ان فیک آءڈیز کے گینگ برگیڈوں سے جنہیں متحرک کر کے شرفاء کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں ،خطرہ ہے ان مالشی پالشی خوشامدی ٹولے سے جن کے منہ میں کچھ نہ کچھ ڈال کے ان کی چابی مروڑی جاتی ہے تو وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن جاتے ہیں ، خطرہ ہے تو حلقہ کو چلانے والے طریقہ کار سے جس کی وجہ سے تمام یونین کونسلز میں غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ ارشدمحمودراجہ نے مزیدکہاکہ خطرہ ہے تو ایسے اقدامات سے جہاں مشاورت کا لیول صفر ہے خطرہ ہے تو اس بات سے کہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھا جا رہا ہے خطرہ ہے ان وعدوں کے وفا نہ ہونے سے اور عوام کے ساتھ نہ سچ بولنے سے اور تقسیم شدہ سوچ سے عوام کو گروہ بندی کا شکار کرنے سے، کسی کارکن کے احتجاج سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور لیڈر شپ جب کارکنوں کے احتجاج کو نظرانداز کرتی ہے تو خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہو جاتی ہے اور جہاں لیڈر شپ باصلاحیت ہوتی ہے وہ اسے خوش اصلوبی سے ہینڈل کر لیتی ہے فیک آئیڈیز کے برگیڈ بنا کر نہیں بلکہ افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات کو حل کرتی ہے اور ایک باصلاحیت ٹیم ورک کا انتخاب کرتے ہوئے ماضی کی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کا تدارک کرتی ہے کیونکہ کوئی بھی لیڈر ایک اچھی ٹیم ورک کے بغیر کچھ نہیں ہوتا وہ کامیاب بھی اچھی ٹیم ورک کے نتیجے میں ہوتا ہے اور اگر ناکام بھی ہوتا ہے تو اس میں اس کی نا اہل سیاسی معاملات سیاسی شعور سے نابلد ٹیم ہی کردار ادا کرتی ہے،صدرمسلم لیگ ن یوتھ ونگ سعودی عرب ارشدمحمودراجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ہمارا اختلاف کسی کی ذات سے قطعا نہیں ہیں بلکہ اختلاف اس سسٹم ان رویوں کے ساتھ ہیں جس کے تحت کارکنوں کا مسلم لیگ ن کے ووٹرز سپورٹز کا استحصال ہو رہا ہے یہ رویہ ترک کرکے جن ووٹرز سپوٹرز کو گزشتہ ساڑھے تین سال سے نظرانداز کیا گیا ہے انہیں ترجیح دی جائے تو ہم تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں ورنہ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکے گا اور بات بہت دور نکل جائے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں