کل کے محسن ،آج کے حریف،راجہ اقبال اورچیئرمین اوورسیزن لیگ ہائی کورٹ میں آمنے سامنے،لیگی ٹکٹ ہولڈرکاعدالت میں جانانا اہلی ہے،راجہ واجد

چڑہوئی(اے جے کے نیوز)مسلم لیگ ن حلقہ چڑہوئی کے متحرک کارکن راجہ واجدآف کالاڈب نے کہاکہ اگر سینئر لوگوں سے مشاورت کی جاتی تو آج عدالت نہ جانا پڑھتا اور قیادت کی نا اہلی کا توق گلے میں نہ پڑھتا ۔ یونین کونسل پرائی کے حوالے سے راجہ اقبال اور راجہ شفیق احمدپلاھلوی کے درمیان انگلینڈ میں جو معاہدہ اور باتیں طے ہوئیں تھی،اس پر عمل نہیں کیا گیا ۔ اس سے پہلے بھی جو بھی پوزیشن یا تقرری کالاڈب کے اندر ہوئی ہے اس پر ہماری جنگ ہوئی ہے ۔ اب ہم کسی بھی قسم کی جنگ نہیں چاہتے تھے ۔ اب جو بھی کوئی کالاڈب میں آسامی،کام کاج وغیرہ ہونگے،ان پر مشاورت ہوگی ۔ انہوں نے مزیدگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اس بات کا وعدہ کیا گیا تھا کہ اب ایسا ہو گا اور جب ایسا نہیں ہوا تو اب قیادت کے لیئے مسائل بن گئے ہیں ۔ اگر راجہ شفیق سے مشاورت کی جاتی تو میں %100 گارنٹی سے کہتا ہوں کہ راجہ شفیق قیادت کی رائے کے ساتھ فیصلہ کرتے،لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ قیادت نے مشاورت کے بجائے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا جو کہ قیادت کے لیئے سب سے بڑی نا اہلی ہے ۔ راجہ واجدآف کالاڈب نے دوٹوک الفاظ میں مزیدگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ راجہ شفیق نے ہمیشہ مسلم لیگ ن کے ہر کارکن کی سپورٹ کی ہے چاہے وہ کسی بھی برادری سے تعلق رکھتا ہو ۔ جو فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں وہی فیصلے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں ۔ جو فیصلے اپنی من پسند سے کیئے جائیں ان فیصلوں میں اسی طرح کی رسوائی ہوتی ہے ۔ آپ اپنی من پسند کے فیصلے چڑھوئی میں کر سکتے ہیں ،ایسا کوئی سوچے بھی نہ کہ کالاڈب میں ہم ایسا ہونے دیں گے ۔ ہم نے جماعت کے لیئے اپنی جان لگائی ہے ۔ اس طرح کے من پسند فیصلے ہم نے نا کبھی ہونے دیئے ہیں اور نا کبھی ہونے دیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں