راجہ اقبال کیساتھ میراکوئی ذاتی اختلاف نہیں ،آخری ملاقات میں آگاہ کیاتھاکہ کارکنان کے مسائل حل نہ ہوئے توراستے جدا ہو جا ئینگے،راجہ شفیق پلاھلوی

لندن(اے جے کے نیوز)چیئرمین اوورسیز، میڈیا ایڈوائزر ن لیگ آزادکشمیر راجہ شفیق پلاہلوی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے چڑھوئی سے لیگی امیدوار راجہ اقبال کیساتھ میرا کوئی ذاتی اختلاف نہیں ، یہ صرف اصولوں کی جنگ ہے ۔ میں نے جماعت کے اندر رہ کرتنقید کی ہے ۔ اختلاف رائے جمہوری سسٹم کاحصہ اور جمہوریت کا حصہ ہے ۔ میرے دل میں آج بھی راجہ اقبال کیلئے عزت واحترام ہے میری ان کیساتھ کوئی ذاتی عناد نہیں ہے ۔ میری تمام باتیں حقائق پرمبنی ہیں ، اختلاف رائے کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ میں ذاتی مفاد کیلئے جھوٹا پراپیگنڈہ نہیں کررہاہوں ۔ میں نے آج تک راجہ اقبال کواپنی ذات کیلئے کوئی کام نہیں کہا اور نہ ہی خلاف قانون کوئی بات کہی ۔ بعض لوگ مجھ پریہ الزام لگا رہے ہیں کہ میں احسان فراموش ہوں ۔ میں نے کسی پر احسان کئے ہونگے مگرکسی کا احسان کبھی نہیں لیا ۔ میری آواز صرف نظریاتی کارکنان اور حلقے کے عوام کے بنیادی مسائل ہیں ۔ جن کا وعدہ سابق امیدوار اسمبلی نے کیا تھا اورآج تک وہ پورے نہیں ہورہے ۔ میں الیکشن کے دوران 8ماہ تک حلقے میں موجود رہا اور عوام سے وعدے کئے لیکن جب عوام مجھے وہ یاد دلاتے ہیں اور اپنے مسائل سے چشم پوشی کے بارے میں بتاتے ہیں تو مجھے نہ صرف تکلیف ہوتی ہے بلکہ پارٹی کے ووٹ بینک متاثر ہونے کے باعث بھی شدید کرب اور تکلیف محسوس کرتا ہوں ۔ لیڈر شپ کی بنیادی ذمہ داری تھی حلقے میں فرنٹ لائن کے اتحادیوں کو ایڈجسٹ کیاجاتا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہاہے،جس کے باعث کارکنان میں شدید تشویش اور غم وغصہ پایاجاتا ہے ۔ راجہ شفیق پلاہلوی نے مزید کہا کہ راجہ اقبال کے دورہ برطانیہ کے دوران ہمارا ان کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا تھا جس پر لیگی امیدوار آج تک پورا نہیں اتر سکے ۔ چار سال تک مسلسل انتظار کے بعد میں نے جماعت کے اند ررہتے ہوئے کارکنوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی اور جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ تنقید کے بجائے گفت وشنید سے بات کی جائے تو میری جب آخری بار راجہ اقبال سے ملاقات ہوئی اس میں دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ آج کے بعد حلقے اور کارکنان کے مسائل کے حوالے سے آپ کوآگاہ نہیں کروں گا کیونکہ ہر بارصرف باتوں کی حد تک کہا جاتا رہا عملی طورپر کوئی اقدام نہیں کیا جاسکا ۔ میں نے کھلے الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اگر اب بھی کارکنوں کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہمارے راستے جدا ہوجائیں گے جس کے باعث مجبوراً کارکنوں کی آواز بنتے ہوئے آواز اٹھائی اور میری ذاتی کسی سے کوئی جنگ نہیں البتہ کارکنوں کے حقوق کیلئے آخری حد تک جاءوں گا ۔ راجہ اقبال کی دل وجان سے عزت کی اور اب بھی میرے دل میں ان کیلئے ذاتی کوئی رنجش نہیں ۔ مجھے بغض وحسد کا طعنہ دینے والے یاد رکھیں کہ میں نے ہمیشہ اصولوں کی بات کی ہے اور میرٹ کو ترجیح دی اگر مجھ سے بڑھ کرکوئی بھی جماعت کیلئے کام کرنے والا ہوگا تو اس کی قیادت میں کام کرنے کوترجیح دوں گا ۔ چند ناعاقبت اندیش اور کرائے کے لوگ پراپیگنڈہ کرکے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ یہ بات مت بھولیں کہ میرا ماضی گواہ ہے کہ ہمیشہ حق وسچ پرمبنی سیاست کی اور عوامی مسائل پربغاوت کی اورآئندہ بھی مشن جاری رکھوں گا ۔ مجھے ڈر اور خوف صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں اوچھے ہتھکنڈوں اور کسی کے مکروفریب سے خوفزدہ ہوکر کارکنوں کیلئے آواز اٹھانا چھوڑ دوں گا اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ ایک وقت تھا جب چوہدری یاسین کیخلاف کوئی بات نہیں کرسکتا تھا تو اس وقت بھی میں نے ہی آواز بلند اور سینہ تان کراپوزیشن کا کردارادا کیا ۔ میرے عزیز واقارب اور چاہنے والے موجود ہیں جو گالی کا جواب گالی سے دینا جانتے ہیں لیکن یہ ہماری سیاسی تربیت بھی نہیں اور ہمارے کردار کیخلاف ہے جھوٹا پراپیگنڈہ اور پگڑیاں اچھالنا ہمارا شیوہ نہیں ۔ میں نے اپنے چاہنے والوں کوسختی سے روکا ہے کہ وہ میرے خلاف ہونیوالے جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت پروپینگڈے کا کوئی جواب نہ دیں کیونکہ ہم باعزت، غیرت مند اور باکردار لوگ ہیں کسی بازاری زبان کا جواب دینا ہ میں زیب نہیں دیتا کیونکہ اس سارے معاملے کے بنیادی فریق میں اور راجہ اقبال ہوں اس میں کسی اور کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دوں گا کیونکہ یہ صرف میرے اور راجہ اقبال کا معاملہ ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں