حلقہ چڑہوئی کی حسب سابق کارکردگی پرسوال اٹھانے والوں کیخلاف موسمی پرندے گھونسلوں سے نکل آئے،سابق ٹکٹ ہولڈرکیخلاف سخت طوفان آنے کے قریب

برطانیہ(اے جے کے نیوز) چڑہوئی کی سیاست میں حسب سابق کارکردگی پر سوال اٹھانے والوں کے خلاف موسمی پرندے گھونسلوں سے نکل آئے ہیں چیئرمین اوورسیز راجہ شفیق پلاہلوی نے چڑہوئی میں ترقیاتی کاموں, پسند و ناپسند کی پالیسی پر سوال کیا اٹھایا کہ چند حکومتی تنخواہ دار بھی اپنا کاسہ لیسی کا فرض ادا کرنے میں سبقت لے رہے ہیں چڑہوئی کی سیاست میں چاپلوسی اور کاسہ لیسی نے انوکھی تاریخ مرتب کی جب بھی کسی کارکن نے سوال اٹھایا تو چاپلوس اور کاسہ لیس بلوں سے باہر آ جاتے ہیں اور اسکیمیں اور تنخواہ حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں سوال اٹھانا ہر ووٹر اور سپورٹر کا کام جبکہ جواب دینا ووٹ لینے والے امیدوار کی ذمہ داری ہے امیدوار اسمبلی راجہ اقبال خان کو پہلے بھی سوشل میڈیا پر حلقہ کے لوگوں کی تذلیل کرنے والے اس پروپیگنڈہ بریگیڈ کے متعلق نوٹس دلایا گیا لیکن انہوں نے ہمیشہ لاعلمی کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ میری ترجمانی کوئی سرکاری ملازم نہیں کرے گا لیکن اب حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ پہلے امیدوار اسمبلی کے برطانیہ میں مقیم صاحبزادہ اور پاکستان میں پوتا اپنے ہی حلقہ کے لوگوں کو سوشل میڈیا پر تضحیک کرتے اور گالم گلوچ کرتے تھے چند کاسہ لیس بھی ان کا ساتھ دیتے تھے اب ایک بار پھر امیدوار اسمبلی کی ایماء پر اپنے ہی جماعتی لوگوں کے خلاف چند سرکاری ملازم ترجمان بن کر اور کچھ گالم گلوچ بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے متحرک ہو گئے ہیں اس سب کے ذمہ دار موجودہ ٹکٹ ہولڈر ہیں جو اس بریگیڈ پر قابو پانے میں ناکام ہیں یا ان کی مرضی سے جماعتی لوگوں کی تذلیل کی جاتی ہے ماضی میں بھی جماعت کے دیگر امیدواروں اور ان کے ساتھ چلنے والے کارکنوں کی بھی سوشل میڈیا پر ایسے ہی تضحیک کی گئی بلکہ سابق وزیر میجر منصفداد مرحوم کو بھی نہ بخشا گیا میجر منصف داد مرحوم کے خلاف جس نے بات کی اور سوال اٹھایا تو ان کے بیٹوں , پوتے یا سرکاری ملازموں نے جواب میں تذلیل نہیں کی یہی میجر منصفداد کی سیاست میں کامیابی کا راز تھا انہوں نے اپنے بچوں کو سیاست کے قریب بھی نہیں آنے دیا بلکہ حلقے کے اندر سے اپنے ساتھ چلنے والوں سے مشاورت اور اعتماد کرتے لیکن موجودہ دور میں چاپلوس کاسہ لیس مفاداتی گروہ بنانے کی کوشش کی گئی باقی لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کو عزت دینے کے بجائے ان کی تذلیل کی گئی اور سوشل میڈیا کا منفی استعمال کرنے کے لئے سرکاری ملازموں اور کاسہ لیسوں کی سرپرستی کی گئی سوشل میڈیا پر کلومیٹرز کی سڑکوں کی لسٹیں لگائی گئیں تاکہ حلقہ کے لوگوں کو بے وقوف بنایا جا سکے لیکن کارکن باشعور ہیں وہ ان اسکیموں کی لسٹیں نہیں مانتے جن کے ٹھیکوں کے لیے لاکھوں روپے کمیشن خوری کی گئی اور ایکسین سے مل کر من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے الاٹ کرنے کی کوشش کی گئی پی ڈبلیو ڈی کوٹلی کے دفتر اور ٹھیکوں کی تقسیم کی داستانیں زبان زد عام ہیں پی ڈبلیو ڈی کی سڑکیں کسی کی کارکردگی نہیں یہ تو ہر صورت میں حلقہ کو ملنی تھیں لیکن سوال یہ ہے کہ کمیشن کے لئے من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دلانے کیلئے کوششیں کون کون کرتا رہا یہ سڑکیں دو اڑھائی سال میں بھی مکمل کیوں نہ ہوئیں لوکل گورنمنٹ کی تین بجٹ میں کروڑوں کی اسکیموں کی لسٹیں کیوں سامنے نہیں آئیں جن میں پراجیکٹ لیڈر ایک مخصوص گروہ تھا لوکل گورنمنٹ کے دفتر عام کارکن کی رسائی نہیں تھی بنک سے چیک کون کون کیش کراتا رہا اسکیموں کے ٹھیکے صرف خاص لوگوں کے پاس کتنی اسکیمیں سو فیصد مکمل نہ ہو سکیں کتنی اسکیموں پر آدھے پیسے لگا کر باقی رقم غائب ہوئی بدترین کرپشن کی غضب کہانیاں منظر عام پر آئیں گی حلقہ کے کارکن جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ناچنے والے بھی نلکے گلیوں کی اسکیمیں اور کئی سرکاری تنخواہوں کا حق ادا کر رہے ہیں یہ سال کارکردگی کے جائزہ کا سال ہے اور حلقہ کا ہر کارکن یہ سوال اٹھائے گا کہ سرکاری ترجمانوں اور چاپلوس ٹولہ کو نوازنے کے علاوہ حلقہ کی باقی یونین کونسلوں میں برابری کی سطح پر کتنی اسکیمیں تقسیم ہوئیں کتنے لوگ بھرتی ہوئے کتنے فنڈز تقسیم ہوئے کتنے ٹرانسفارمر کھمبے دیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں