پڑھیئے پروفیسرظہوراحمدکاکالم،کیاخوب

جناب وزیراعظم عمران خان صاحب نے میانوالی میں  پنجاب کے ایک ماڈل تھانے کا افتتاح کرتے ہوے فرمایا کہ میں پنجاب پولیس کو کے پی کے پولیس جیسا دیکھنا چاہتا ہوں اس حوالے سے جناب وزیر اعظم نے کچھ وضاحت بھی کی اور بڑے فخریہ اندازمیں اس توقع کا اظہار کیا کہ جلد پنجاب پولیس کے پی کے پولیس کی طرح نظر آئےگی ۔بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت میں کے پی کے پولیس کی کار کردگی ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلہ میں بہتر نظر آتی رہی ہے نہ صرف پولیس بلکہ اکثر شعبوں کی کارکردگی بہتر نظر آرہی تھی اسی تناظر میں یہاں کے عوام نے ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوے تحریک انصاف کو دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب کیا مگر بدقسمتی سے اس بار تحریک انصاف اس طرح کی کار کردگی دکھانے سے قاصر نظر آرہی ہے جس کی توقع کی جارہی تھی ۔ آج ہی اس بات کے ثبوت کے طور پر کہ ہم وہ نہیں جو عوام نے سمجھ لیا تھا صوبائی حکومت نے کابینہ میں رد وبدل کرتے ہوے ایک میٹرک پاس صاحب کو وزیر تعلیم مقرر کر دیا گیا ہے۔ان کے ماتحت صوبہ میں سیکڑوں پی ایچ ڈی ، ہزاروں ایم فل اور لاکھوں ماسٹر ڈگری ہولڈز اس نئے جذبے سے کام کریں گے کہ ہمیں کیاخوب قیادت میسر آئی ہے  ۔اب ان حالات میں صوبہ انتظامی طور پر کہاں نظر آے گا جناب وزیر اعظم کے پی کے انتظام کو دوسرے صوبوں کے سامنے کس طور پر پیش کریں گے اس کا جواب پارٹی دینا پسند کرے گی کیا؟ اس تعیناتی پر صوبائی وزیر اطلاعات نے وضاحت دیتے ہوئے متعلقہ وزیر صاحب کی تعریف کی شاید وہ اس قابل ہوں جس کا اظہار ہوا مگر بظاہر ایسے اقدامات کے کیا نتائج آنے کی توقع جاسکتی ہے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ۔اگر صوبے کے سب سے بڑے محکمہ کے ساتھ یہ برتاو ہے تو پھر پارٹی سنہری نتائج  کے لیے تیار رہے ۔اگر ایسی ہی تعیناتیاں کرنا ہیں تو پھر تمام کالز میں مڈل پاس پرنسپلز اور سکولز میں پرائمری پاس ہیڈ ماسٹرز لگائیں پارٹی کارکنوں کو خوش کریں اور آنے والے انتخابات میں نتائج کا انتظار فرمائیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں