ن لیگی ٹکٹ ہولڈرحلقہ چڑہوئی راجہ اقبال کی غلط پالیسیاں ،چیئرمین اوورسیزومیڈیا ایڈوائزرمسلم لیگ ن راجہ شفیق پلاھلوی نے رستے جداکرلیے

لوٹن ( اے جے کے نیوز) حلقہ چڑہوئی میں لیگی امیدوار کی جانب سے پسند و ناپسند اور ٹولہ نوازی سے مسلم لیگ ن بکھرنے لگی ۔ چڑہوئی کے لیگی زعماء اور سنجیدہ کارکنوں نے سر جوڑ لئے ۔ اوورسیز کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے لیگی امیدوار کی پالیسیوں سے تنگ آکر مستقبل میں ساتھ نہ دینے کا اعلان کردیا ۔ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر راجہ اقبال خان کے سب سے بڑے سپورٹر اور چیئرمین مسلم لیگ ن اوورسیز راجہ شفیق پلاہلوی نے ٹکٹ ہولڈر سے اپنے راستے جدا کر لئے ۔ 2011ء کے الیکشن سے لے کر 2016ء کے الیکشن تک حلقہ میں دھڑے اور گروپ بندی کی سیاست تھی جس میں حلقہ چڑہوئی بالخصوص اوورسیز کے لیگی رہنماؤں نے ٹکٹ کی جنگ اور گروپ بندی کی سیاست میں راجہ اقبال خان کی خواہش پر سابق وزیر میجر منصفداد مرحوم سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کی کھلے عام مخالفت کی اور ٹکٹ کیلئے اعصاب شکن مرحلہ میں بھی راجہ اقبال خان کے لئے ہر سطح پر کردار ادا کیا ۔ ٹکٹ کے بعد حلقہ میں صورتحال ناہموار ترین تھی اور جگہ جگہ پر کارکنان اور لوگ ٹکٹ ہولڈر کی ماضی کی سیاست اور فیصلوں کی وجہ سے ناراض تھے لیکن لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے جس طرح الیکشن میں بلاتخصیص کام کیا اور دن رات ایک کر کے حلقہ میں لوگوں کو راضی کرنے اور دوسری جماعتوں سے مسلم لیگ ن میں شامل کر کے حلقہ میں وہ ماحول بنایا کہ محض ایک مہینہ میں حلقہ کی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی تھی اور مخالف امیدوار چوہدری یاسین کے مطابق پہلی بار اسے اعصاب شکن مقابلے کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ الیکشن سے قبل راجہ اقبال خان نے کارکنان اور رہنماؤں کو ان کی محنت اور کاوشوں پر بھرپور اعتماد کیا اور یہ وعدہ کیا کہ حلقہ میں کام بلاتخصیص، مشاورت،شفاف اور میرٹ کے مطابق ہوں گے اور ہر کارکن کی عزت اور اس کی محنت کے مطابق مقام ملے گا،مگرالیکشن کے بعد حالات بالکل تبدیل ہو گئے ۔ ٹکٹ ہولڈر کی کچن کابینہ اور مشاورت میں صرف مخصوص لوگ جو ماضی میں بھی جماعت سے الگ ہونے کے موقع پر بھی ساتھ تھے انہی کو شامل کیا گیا،اسکیموں اور دیگر ترقیاتی کاموں میں کارکنان اور رہنماؤں کی مشاورت کے بغیر مخصوص طریقے سے بندر بانٹ کی گئی ۔ ترقی و تعیناتیاں بھی کارکنان کے بجائے اقرباء پروری اور چاپلوسی ٹولہ کی ایماء پر کی گئیں ۔ اسکیموں اور تقرریوں کا اختیار ایک منظم طریقہ سے ٹکٹ ہولڈر نے اپنے فرزند کے حوالے کئے رکھا ۔ اسکیموں میں خرد برد،کمیشن خوری اور تقرری و تبادلوں کے لئے رشوت اور اقرباء پروری کی خبریں صرف حلقہ میں ہی نہیں اوورسیز میں بھی زدزبان عام ہیں ،حلقہ سے لے کر اوورسیز تک محنت اور ساتھ دینے والے رہنما اور کارکن ٹکٹ ہولڈر اور ان کے فرزند کی پالیسیوں کو ہی دیکھتے اور حیران ہوتے رہے ۔ متعدد بار ٹکٹ ہولڈر کو توجہ بھی دلائی گئی لیکن ہر بار انہوں نے معذرت اور مستقبل میں محتاط ہونے اور کارکنوں کی مرضی کے مطابق کام کرنے کا عہد کیا لیکن نتاءج اس کے برعکس ہی ہوتے رہے ۔ ایک مخصوص پالیسی کے تحت دیگر لیگی رہنماؤں کے ساتھ چلنے والے کارکنان کو ہر ہر موقع پر ان رہنماؤں سے توڑنے اور اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی گئی اور جو ساتھ نہ دیتے انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا ۔ کارکن کش پالیسی کے سامنے کھڑے ہونے اور پسند و ناپسند کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے اپنے ہی لیگی کارکنوں کی سوشل میڈیا پر ایک مخصوص اُجرتی ٹولہ کے ذریعے کردار کشی کی گئی اور انہیں بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا ۔ چار سالہ ان کی پالیسیوں سے تنگ لیگی کارکنوں اور رہنماؤں نے سخت رد عمل کا فیصلہ کرلیاہے ۔ ٹکٹ ہولڈر اور ان کے فرزند کی پالیسیوں سے مسلم لیگ ن بطور جماعت حلقہ چڑہوئی میں بکھر چکی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں