شخصی سیاست کاراستہ روکناہوگا،چارسال میں حلقہ چڑہوئی میں کتنے فنڈزآئے،کہاں کہاں اسکی میں تقسیم ہوئیں ،سب تفصیلات منظرعام پرآنی چاہئیں ،راجہ شفیق پلاھلوی

لوٹن ( بیورو رپورٹ ) پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر اوورسیز کے چیئرمین و میڈیا ایڈوائزر راجہ شفیق پلاھلوی نے کہا ہے کہ آنے والے سال میں جہاں کارکنان نے آمدہ الیکشن اور مستقبل کی پیش بندی کرنی ہے وہیں گذشتہ چار سال کی کارکردگی ، ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لینا ہو گا ۔کارکنان کے حقوق اور عوامی مفاد کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے اور اس مشن کو جاری رکھوں گا۔ میرے نزدیک کارکن جماعت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ کارکنوں کو نظر انداز کر کے پسند و ناپسند کی پالیسی نا صرف جماعتوں بلکہ معاشرے کے لئے بھی زہر قاتل ہے ۔ معاشرے اور جماعتوں میں سوال اٹھانے اور پوچھ گچھ کا عمل نہ ہونا جماعتوں کے نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔ میں نے مسلم لیگ ن کے نظریاتی کارکن کی حیثیت سے کام کیا اور آئندہ بھی اسی حیثیت میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا ۔ ماضی میں بھی حلقہ چڑہوئی میں دھڑے بندی کی سیاست نے نقصان پہنچایا ہے اور آئندہ بھی اس قسم کی سیاست سے باز رہنا ہو گا ورنہ حلقہ چڑہوئی میں مسلم لیگ ن کی کامیابی محض ایک خواب ہی رہے گا ۔ میں اس بات کا برملا اعتراف کرتاہوں کہ ماضی میں دھڑے بندی کی سیاست کو پروان چڑھایا جو میری غلطی تھی اب ایسا نہیں ہو گا ۔اب حلقہ میں صرف اور صرف جماعتی سیاست اور جماعت کے لئے کام ہو گا اور جماعتی مفاد سے ہٹ کر کسی شخصی سیاست کو پروان چڑھنے نہیں دیا جائے گا ۔ حلقہ چڑہوئی میں کارکنان اور رہنمائوں سیبھی اپیل کرتا ہوں کہ صرف جماعت کے لئے کام کریں اور جماعت کو ہی مضبوط بنایا جائے ۔ شخصی سیاست کا راستہ روکنا ہو گا ۔ راجہ شفیق پلاھوی نے کہا کہ ہمیں ماضی کے چار سالہ حکومتی اقدامات کا بھی جائزہ لینا چاہئے ۔ اب نئے سال کے آغاز پرجہاں حلقہ چڑہوئی کے کارکنان ، عوام کو مبارک پیش کرتا ہوں وہیں یہ بھی واضح ہوناچاہئیے کہ یہ سال سابقہ کارکردگی کا جائزہ لینے کا بھی سال ہے ۔ چار سال میں حلقہ میں کتنے فنڈز آئے ، کہاں کہاں اسکیمیں تقسیم ہوئیں اور کس یونین کونسل میں کتنے کام ہوئے یہ صرف زبانی دعووں اور بیانات نہیں بلکہ تفصیلات منظر عام پر آنی چاہئیں ۔عوام اور کارکنوں کو پورا حق ہے کہ وہ سابقہ کارکردگی کا جائزہ لے کر مستقبل کے لئے پیش بندی کریں ۔ ماضی میں جماعت کے ہی دیگر لوگوں کو نیچا دکھانے کے لئے باقی یونین کونسلوں بالخصوص یوسی پرائی اور جرائی کی لسٹیں سوشل میڈیا پر آویزاں کی گئی اور جماعتی لوگوں کو سوال اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اب کارکنان بھی اور حلقہ کی عوام بھی سوال کرتی ہے کہ یونین کونسل پنجن چڑہوئی سمیت ہر یونین کونسل کی لسٹیں منظر عام پر لائی جائیں تا کہ حلقہ بھر کی عوام اور کارکنوں کو معلوم ہو سکے کہ چار سال کی کیا کارکردگی ہے اور حکومتی فنڈز کتنے شفاف اور مساویانہ طریقہ سے تقسیم کئے گئے ہیں ۔حلقہ کی آٹھ یونین کونسلزہیں یونین کونسل پنجن چڑہوئی جہاں سب سے زیادہ لیڈران ہیںلیکن بدقستمی سے ہم 2016ء کا لیکشن وہیں سے ہارے ہیں جبکہ 2011ء کی نسبت ہم نے چوہدری یاسین کے گڑھ یونین کونسل پرائی ، جرائی ، تھروچی ، براہٹلہ ،کوٹلی سوہلناں ،بڑالی ،خانکہ کٹہڑہ سے زیادہ مارجن کے ساتھ ووٹ لئے ۔ یوسی پنجن چڑہوئی میں کتنے فنڈز آئے اور کتنے زمین پر لگے باقی یونین کونسلوں میں کیا نسبت رہی ، کتنا فنڈ ملا کہاں کہاں کہاں کتنا خرچ ہوا زبانی جمع خرچ اور اخباری بیانوں کے علاوہ تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں ۔ ہمیشہ چوہدری یاسین کی مخالفت کرپشن ، اقرباء پروری اور ترقیاتی کاموں میں عدم مساوات کی وجہ سے کی گئی لیکن اب حلقہ کے مسلم لیگی کارکنان کو اپنے دورکا خود جائزہ لینا ہے ۔ کارکنان سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز سنیں اور اس مفلوج زدہ نظام کا حصہ بننے کی بجائے اپنے وزن اور کردار کا احساس دلائیں ۔ ایم اے اور گریجویشن کی ڈگریاں اٹھانے والے نوجوان ایف اے بی اے زدہ لیڈروں کے پیچھے پیچھے اپنی عزت نفس کی سودہ بازی کررہے ہیں ۔ اپنی نوجوان نسل کو ایسا دیکھ کر اس نظام کے خلاف بغاوت کا جی چاہتا ہے ۔جہاں نئے سال پر تمام اہلحلقہ و اہل آزاد کشمیر کو مبارک باد پیش کرتا ہوںوہیں یہ واضح کرتے ہیں کہ کارکنان کے حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کروں گا۔ نوجوانوں کے حقوق اورعوامی پسماندگی کے لئے کوئی سمجھوتہ کئے بغیر آواز بلند کرتے رہیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں