وکلا اورڈاکٹروں کے بعدراولاکوٹ کالج کے پروفیسربھی پیچھے نہ رہے،فاروق خان اور راجہ ناصررفیق سے جانی خطرہ ہے ، سیدرفاقت گردیزی

راولاکوٹ ۔۔۔محمد خورشید بیگ ۔۔ وکیلوں آور ڈاکٹروں کے بعد پروفیسر بھی پیچھے نہ رھے گورنمنٹ کالج ملوٹ میں تعینات انگریزی کے پروفیسر سید رفاقت حسین گردیزی نے راولاکوٹ کے چند پروفیسرز پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ھے سید رفاقت گردیزی کا کہنا ہے کہ میں انگریزی کی کلاس پڑھانے کے بعد پرنسپل آفیس داخل ہوا تو ۔راولاکوٹ کالج سے اپنی ڈیوٹیاں چھوڑ کر آئے ھوئے پروفیسر سردار فاروق۔معاشیات کے راجہ ناصر رفیق جو پرنسپل آفس میں تهے یہ لوگ ووٹ مانگنے آئے تھے۔ رسمی سی سلام علیکم کے بعد فاروق خان کے معاون ایلچی پروفیسر راجہ ناصر رفیق نے اپنے ساتھ آئے قائد کے اشارے پر مجھ سے تلخ کلامی شروع کر دی۔ دونوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ باغ سے ان کے ساتھ آئے ھوئے پروفسر نصیر کیانی۔ڈاکٹر رفیع الدین مجرمانہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ھوئے غفلت کا شکار رھے۔حاجی ضرار ملوٹ کالج بری طرح زخمی خون آلودہ ھو گئے۔ جبکہ راجہ ناصر رفیق بھی کہیں فرش یا دروازے پر منہ ٹکرانے سے ھونٹ کٹنے سے خون آلودھو گئے۔ جھگڑے کے موقع پر موجود صاحبان بھی سائیلنٹ پر لگ گئے۔اور باڈی لینگوئج سے خانبدار لگنے لگے۔راقم نے اپنے آپکو وقتی تحفظ دینے کے لئے درخواست دیدی پولیس چوکی پر۔دو پولیس والے اتمام حجت پورا کرنے کالج آئے ۔بغیر کارروائی کرنے کے ملی بھگت سے واپس کر دئیے گئے ۔ ووٹ کے حوالہ سے میٹنگ کامیاب کرانے کے لئے کلاسز آف کردی گئیں تاکہ پروفیسر ایکٹا کی الیکشن مہم میٹنگ کرائی جا سکے۔دوران ڈیوٹی کار سرکار مین مداخلت کرتے ھوئے تعلیمی ماحول کو ڈسٹرب کیا گیا۔تدریس متاثر کی گئی۔پروفیسر فاروق دن بھر ملوٹ۔رنگلہ دہیرکوٹ ووٹ مانگتے رھے شام تک جبکہ راولاکوٹ کالج کے پرنسپل سعید خان کی سرپرستی میں حاضری رجسٹر پر فاروق خان کی 1:40 بجے پر جعلی حاضری بھی لگا کر دیانتداری کا فریضہ سر انجام دیا گیا۔پوچھنے والا کوئی نہیں۔ فاروق خان اپنے تین سالہ جعلی صدارتی دورانئیے سنگل ٹائم بھی شاید ہی کلاس لی ھو۔بلکہ پانچ دس ھزارکا ٹھیکہ مارکر کبھی مشتاق فاروقی اور کبھی کسی اور ادھارے کو اپنی جگہ لگا کر رزق حلال کرتے رھے۔ سردار فاروق نے سال 2018 میں میرا تبادلہ پس پردہ میرے محض اس قصور پر محکمہ کو جھوٹی معلومات دے کر کروایا تھا۔کیونکہ بد قسمتی سے میرے نام کے ساتھ روایتی سردار ھونے کا سابقہ نہ لگا تھا۔ اپنے سچے رب کی قسم اگر یہ روایتی سابقہ لگا ھوتا تو مجھ سے کالج میں بہت سارے کم ظرف پڑھے لکھے ان پڑھ پروفیسروں کا رویہ ھر گز متعصبانہ نہ ھوتا۔اور میں بھی پچیس تیس۔سال دیگر ovetstayed پروفیسروں کی طرح ایک سٹیشن پر نوکری کے ناجائز مزے لیتا رہتا راجہ ناصر رفیق اور چند دیگر محض ڈنگ ٹپانے والے پروفیسر نماؤں کی طرح میں بھی ھر کسی کا استحصال کرتا پھرتا۔ میرا راولاکوٹ کالج میں بھترین رزلٹ ڈنگ ٹپاؤ پروفیسروں کے مقابلے میں زندہ و جاوید بولتا ھے۔۔فاروق خان اور اس کے حواریوں نے میرا ٹرانسفر کرانے کے بعد۔ میرے اور سابق ریٹائرڈ دیانت دار پرنسپل ڈاکٹر عبد القدوس کے درمیان۔گیپ غلط فہمیاں پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔اوربری طرح ناکام ھوئے۔یہ شوشہ چھوڑا کہ ڈاکٹر قدوس رفاقت شاہ کے خلاف لکھا تب تبادلہ ھوا۔جبکہ ڈاکٹر نے حلفا” یقین دھانی کراتے ھوئے ان حاسدوں کے سامنے ببانگ دہل اقرار کیا کہ رفاقت شاہ کے تبادلے میں انہوں نہ زبانی اور نہ تحریری محکمے کو لکھا۔ جب کہ باقی لوگوں کے متعلق قدوس خان نے عملا”۔لکھا اقرار بهی کیا۔لیکن ان نوسر بازوں نے آج تک میرے حوالے سے ڈاکٹر قدوس کے حوالے سے میرے خلاف پروپیگنڈہ لگاتار جاری رکھا ھواهے میرے اندر اتنی اخلاقی جرات ھے تو تبھی یہ تحریر ان نوسر باز حاسدوں کے حضور لکھ رھا ھوں۔ کسی میں جرات ھے تو میری ان باتوں کا جواب ڈھونڈ لائے۔ راولاکوٹ کالج میں اعلی ظرف پروفیسرز ڈاکٹر ممتاز صادق۔ڈاکٹر صغیر ۔پروفیسر خالد۔ عظمت رزآق۔اظہر محمود۔شعھد مختار۔پروفیسر رشید۔عارف کیانی صاحب ۔ظفر۔مشتاق۔بیسٹ اخلاقی اقدار کا۔لحاظ رکھنے والے ہیں۔ لیکن بعض کو ڈگریوں کا بوجھ ۔ھر وقت دوسروں کے بارے میں negative اپروچ۔حاسدین خود ھی اندر ھی اندر گلتے سڑتے رہتے ھیں۔اپنا آپ خود جلاتے ھیں۔کسی کا۔کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مجھے فاروق خان اور راجہ ناصر رفیق سے جانی خطرہ ھے۔ان کے خلاف ایس پی ڈی سی باغ کے آفیس میں رپورٹ درج کروائی ھے مزید کارروائی جاری ھے۔ منسٹر صاحب ھائیر ایجوکیشن کرنل وقار نور ۔ایڈیشنل سیکرٹری ساجد نور ۔سیکرٹری تعلیم ظہیر قریشی سے گذارش ھے کہ اس قاتلانہ پرتشدد حملے پر پروفیسر فاروق اور راجہ ناصر رفیق کی انوسٹی گیشن کے لئے انکوائری کمیٹی بنا کر مجھے انصاف فراہم جائے۔غیر روایتی سچ کہنے کا عادی ھوں بے شک اس میں مجھے بڑے سے بڑا نقصان کیوں نہ ھو جائے۔روایتی متعصب لوگ میری باتوں سے تنگ ھوں گے ھوتے رھیں۔اعلی ظرف زرا میرے مقام پر کھڑے ھو کر اگر میرے معروض کی نظر سے سوچیں تو حقیقتیں نظر آئیں گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں