مسلم لیگ ن اوورسیزنے جماعت کیلئے شب وروزمحنت کی،برائے نام اوورسیزکمیشن قائم،اوورسیزکارکنان کوایڈجسٹ اورترقیاتی فنڈز میں شامل کیاجائے،راجہ شفیق پلاھلوی

لوٹن(اے جے کے نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر اوورسیز کے چیئرمین راجہ شفیق پلاھلوی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اوورسیز کے کارکنان نے اول روز سے جماعت کے لئے دن رات ایک کیا ۔ الیکشن میں کامیابی کے لئے اوورسیز کے کارکنان کی محنت اور کوششیں کسی سی ڈھکی چھپی نہیں ۔ حکومت قائم ہوئے تین سال کا عرصہ گزر گیا لیکن کارکنوں کی ایڈجسٹمنٹ نہ ہونا جماعت کے لئے نیک شگون نہیں ہے ۔وزیر اعظم و صدر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن اوورسیز کے کارکنوں کو ان کی محنت اور قربانیوں کے مطابق حکومت میں عزت و وقار دیں ۔ہمارے دو ہی مطالبات ہیں اوورسیز کے کارکنوں کو ایڈجسٹ اور ترقیاتی فنڈز میں شامل کیا جائے ۔برائے نام اوورسیز کمیشن قائم کیا گیاہے جس کے کمشنر کے پاس اختیار ہی نہیں۔ کارکنان کسی بھی جماعت کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور قیادت کی تمام سیاست کارکنوں کی محنتوں ، کاوشوں اور قربانیوں کی مرہون منت ہوتی ہے ۔کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک نہ کی گئی تو جماعت کو نقصان ہو گا ۔اس سے قبل بھی مسلم لیگ ن آزاد کشمیر اوورسیز کے کارکنوں کو نظر انداز کر کے ان کی خواہشات کے بر عکس اوورسیز ایم ایل اے بنایا گیا اور پھر انہیں کارکنوں کی خواہشات کا قتل عام کر کے مشیر بھی بنایا گیا ۔ دونوں فیصلے جماعت کے لئے کام کرنے والے کارکنوں کی محنتوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہیں ۔ ایسے ایسے لوگوں کو ایڈجسٹمنٹ کی جا رہی ہے جن کا کسی بھی حوالے سے کوئی نمایاں کردار نہیں ہے ۔آزاد کشمیر کے بعد سب سے زیادہ کشمیری برطانیہ میں ہیں اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان بھی اس کا کئی بار اظہار کر چکے ۔ برطانیہ میں مقیم کشمیری نا صرف سیاست بلکہ آزاد کشمیر کی معیشت میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اپنے قائد اورجماعت سے پیار اور وابستگی کی وجہ سے تین سال ہم نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی ۔ یہاں ج وشور مچاتا اور برا بھلا کہتا ہے چند دن بعد اس کی ایڈجسٹمنٹ ہو جاتی ہے ۔ ہم کارکنوں کی عزت اور ان کے وقار کے لئے ضرور آواز بلند کریں گے ۔ اوورسیز کے کارکنان جماعت کا وہ قیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے مشکل ترین وقت میں ہر موقع پر جماعت کے لئے ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ۔اپوزیشن میں جماعت کے لئے سب سے زیادہ اوورسیز کے کارکنوں نے محنت کی اور قربانیاں دیں ۔ برطانیہ ، یورپ ، مڈل ایسٹ سمیت ہر ملک میں تارکین وطن کارکنوں نے اپنے اپنے حلقہ میں جو کردار ادا کیا وہ جماعت کی کامیابی کے لئے سب سے نمایاں تھا ۔ایک ہزار سے زائد برطانیہ سے کارکن انتخابات میں گئے تھے جنہوں نے اپنے اپنے حلقوں اور عوام سے ان کے مسائل کے حل اور ترقیاتی کاموں کے وعدے کئے لیکن نا ہی حکومت نے اور نہ ہی متعلقہ حلقہ کے ایم ایل اے یا نمائندے نے ہمارے وعدوں کا پاس رکھا آج وہی لوگ ہمارے وعدوں کے مطابق اپنے مسائل کے حل اور کاموں کے لئے سوال اٹھاتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے بار بار وعدے کئے گئے کہ اوورسیز کے کارکنوں کو حلقہ جات کے فندز کی طرح ترقیاتی فندز میں حصہ دیا جائے گا لیکن مکمل یکسر نظر انداز کیا گیا ۔ اوورسیز میں لاکھوں لوگ ہیں آزاد کشمیر کے جن کے متعلقہ علاقوں اور وہاں کے ووٹرز کے مسائل ہیں لیکن ان کے حل کے لئے ساڑھے تین سال میں کوئی قابل عمل قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کو چاہئے کہ وہ اوورسیز کے کارکنوں کے توقعات کے مطابق فیصلے کریں ۔تین سال میں بار بار وعدے ہی کئے گئے ۔ہم اپنی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں مگر حقدار کارکنوں کو حق ملنا چاہئے اور ان کے حق میں آواز بلند کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اوورسیز کے کارکنوں کی توقعات کے مطابق ایسے لوگوں کو ایڈجسٹ کیا جائے جن کی جماعت کے لئے حقیقی خدمات اور قربانیاں ہیں ۔ حکومت کے ایسے فیصلوں کے ساتھ تمام کارکنان کھڑے ہوں گے ۔ اوورسیز کمیشن تو قائم کیا گیا لیکن نا ہی اس کو اختیار ملا اور نہ ہی اس کو ایک ادارہ بنایا گیا ہے ۔ اوورسیز کے ہر کارکن کی جماعت کے لئے قربانیاں اور جماعت کی کامیابی کے لئے ایک کردار ہے ۔ تین سال سے لیگی کارکنان اس انتظار میں ہیں کہ ان کی محنتوں اور کوششوں کا صلہ انہیں دیا جائے گا لیکن صرف وعدے اور نظر انداز کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے ۔سوائیخالی وعدوں کے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر اور صدر جماعت راجہ فاروق حیدر اوورسیز کے کارکنوں کا اعتماد بحال کرتے ہوئے فیصلے کریں تا کہ جماعت مزید مضبوط اور اوورسیز میں متحرک ہو سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں