حکومت آزادکشمیرنے مساجد،عیدگاہ،جنازہ گاہ،امام بارگاہوں اورغیرمسلموں کی عبادت گاہوں کیلئے یہ چیزلازمی قراردیدی ، نوٹی فیکیشن جاری

مظفرآباد (اے جے کے نیوز) حکومت آزاد کشمیر نے مساجد ، عید گاہ، جنازہ گاہ، امام بارگاہ، غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی، نو ٹیفیکیشن جاری، حکومت آزاد کشمیر کے جاری کردی نوٹفکیشن کے مطابق تمام مسالک و غیر مسلم کی عبادت گاہوں کی رجسٹریشن پالیسی مجریہ 2019 کے نام سے مو سوم ہو گی، اس پالیسی کا اطلاق آزاد جموں و کشمیر کی حدود کے اندر جمل مساجد ،عید گاہ، جنازہ گاہ، امام باگاہ اور غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر ہو گا، یہ پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی، نو ٹی فیکیشن کے مطابق اہل تشیع کی وقف شدہ جگہ امام بارگاہ کہلائے گی، جبکہ مسلمانوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیئے وقف شدہ جگہ جنازہ گاہ اور نماز عیدین کی ادائیگی کے لیئے وقف شدہ جگہ عید گاہ، اور مسلمانوں کی نماز کی ادائیگی کے لیئے وقف شدہ جگہ مسجد کہلائے گی، جبکہ غیر مسلم جہاں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کرتے ہیں وہ جگہ یا عمارت غیر مسلم عبادت گاہ کہلائے گی،عبادت گاہوں کے انتظام و انصرام کے لیئے مقامی سطح پر بنائی گئی کمیٹی انتظامی کمیٹی کہلائے گی، عبادت گاہوں اور انتظامی کمیٹی کی رجسٹریشن کے لیئے رجستریشن کمیٹی کے اراکین میں ناظم مذہبی امور چیئرمین ، ڈپٹی سیکریٹری مذہبی امور ،رکن، ضلع مفتی، تحصیل مفتی، رکن ہوں گے،عبادت گاہوں کی رجسٹریشن محکمہ امور دینیہ کے تمام تحصیل مفتی صاحبان کے مفتیان کے دفاتر سے ہو گی، آزاد کشمیر میں مساجد پالیسی کا اجراء مفتی حافظ نذیر احمد قادری، ڈائریکٹر مذہبی امور کی کوششوں سے ممکن ہوا یہ قانون پاکستان میں ابھی تک نافذ نہ ہے جبکہ آزاد کشمیر میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے قواعد 1991 میں نافذ ہوئے مدارس کی رجسٹریشن محکمہ مذہبی امور کر رہا ہے، جبکہ مساجد کی رجسٹریشن کے قواعد اب نافذ ہو چکے ہیں ، وزیر اعظم آزاد کشمیر کا سنہری کارنامہ ہے ، دینی، مذہبی اور سماجی حلقوں نے حافظ نذیر قادری ، و سیکریٹری مذہبی امور کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں