بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجدکیس کا متعصبانہ فیصلہ سناکرانصاف کاخون کیا ، راجہ شفیق احمدخان

برطانیہ(اے جے کے نیوز)بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجدکیس کامتعصبانہ فیصلہ سناکرانصاف کاخون کیا ۔ مودی سرکارکا انتہاپسندچہرہ بے نقاب ہوگیا ۔ بھارت کی اعلی عدالت بھی ہندوں جنونیوں کے آگے لیٹ گئی اور انصاف کا خون کیا ۔ ان خیالات کا اظہارچیئرمین اوورسیز ومیڈیا ایڈوائزرمسلم لیگ ن آزادکشمیرراجہ شفیق احمدخان نے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا کرانصاف کا خون کیا ۔ بھارتی عدالت کے فیصلے سے مودی سرکارکا انتہاء پسند چہرہ بے نقاب ہوا جس نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کی اعلی عدالت بھی ہندو جنونیوں کے آگے بے بس ہے ۔ کرتارپور راہداری کے دن بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور سہولیات ہیں جبکہ بھارت میں اقلیتوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی کشمیری حریت رہنماء افضل گور کے فیصلے میں انصاف کا خون کر چکی ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جب سے بھارت میں مودی برسر اقتدار آیا ہے بھارت ہندو انتہا پسندوں کے چنگل میں ہے ۔ بابری مسجد کا تنازعہ انتہائی اہم مقدمہ تھا جس پر پوری دنیا کی نظریں تھیں ۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کی اعلی عدالت بھی ہندوں جنونیوں کے آگے لیٹ گئی اور انصاف کا خون کیا ۔ بھارتی فوج کے فیصلے نے ہندوستان میں رہنے والی اقلیتوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اب بھارت میں فیصلے میرٹ کے بجائے انتہا پسند جتھوں کی ایما پر کئے جائیں گے ۔ راجہ شفیق احمدخان نے مزید کہا کہ ہندووانہ انتہا پسندی بالاخر ہندوستان کو لے ڈوبے گی ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے مسلمانوں کو بیحد مایوس کیا تھا اگر اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر آتا تو یہ مسلمانوں کے حق میں ہوتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں