اسلام میں طلاق یافتہ یابیوہ خواتین کیلئے عدت کاحکم کیوں دیاگیا

اسلام میں خواتین کو طلاق یا بیوہ ہونے کی صورت میں بالترتیب 3ماہ اور 4ماہ 10دن کی عدت کا حکم دیا گیا ہے۔ سائنس بھی عدت کے حکم کی تصدیق کر چکی ہے۔ ایک سائنسی تحقیق میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض (تین ماہ)کی مدت تک شوہر کے نطفے کے آثار (Imprints)خاتون کے رحم میں موجود رہتے ہیں۔ مرد کے ان مائع آثار میں 62پروٹین ہوتے ہیں اور ہر مرد کے یہ آثار باقی تمام سے یکسر مختلف ہوتے ہیں، جیسے انگلیوں کے نشانات مختلف ہوتے ہیں۔ان آثار کو آپ اس مرد کا ’پرسنل کوڈ‘ کہہ لیں،

کمپیوٹر کے کوڈز کی طرح عورت کے جسم میں پیوست ہوتے ہیں۔ یہ کوڈز کمپیوٹر میں داخل ہونے والے وائرس کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر کسی عورت کے جسم میں ایک مرد کے کوڈز موجود ہوں اور وہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ جنسی تعلق استوار کر لے تو دونوں مردوں کے کوڈز مل جانے سے خطرناک امراض جنم لیتی ہیں۔ یااس سے زائد مردوں کے کوڈز ملنے سے عورت کے جسم میں ایک عدم توازن پیدا ہوتا ہے جو وبائی امراض کا سبب بنتا ہے۔ سائنسی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عورت کے جسم سے مرد کے یہ آثارایک حیض آنے پر 32سے 35فیصد ختم ہوتے ہیں۔ دوسرے حیض پر 67سے 72فیصد اور تیسرے حیض پر 99.9فیصد ختم ہو جاتے ہیں اور عورت کا رحم بالکل صاف ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر سکتی ہے۔ اس صورت میں اسے کوئی مرض لاحق نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں طلاق کی صورت میں تین حیض تک عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بیوہ ہونے کی صورت میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ شدید غم کی وجہ سے مرد کے آثار ختم ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں کیونکہ متوفی شوہر کی جدائی کے غم کی وجہ سے یہ آثار زیادہ مضبوطی کے ساتھ عورت کے رحم میں سیٹل ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس صورت میں عورت کو 4ماہ 10دن کی عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک اور بڑی وجہ یہ ھے کہ مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں تین مہینے تک ACTIVE ھو سکتا ھے اور اس سے بچہ پیدا ھونے کی امید کی جا سکتی ھے۔جب تین حیض ھو جاییں تو یہ یقین ھو جاتا ھے کہ اب رحم صاف ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں