سپریم کورٹ اوراحتساب بیورو میں کیس چلنے کے باوجودکوٹلی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے جگہ پرقبضہ شروع کردیا ، متاثرین کے حقوق پرشب خون مارا جا رہا ہے،چوہدری انورشہزاد

کوٹلی(اے جے کے نیوز)کوٹلی یونیورسٹی کیس شدت اختیارکرگیا،سپریم کورٹ اوراحتساب بیورو میں کیس کی سماعت جاری ہے اس کوپس پشت ڈال کریونیورسٹی انتظامیہ نے جگہ پرقبضہ کرناشروع کردیا ۔ متاثرین منہ تکتے رہ گئے ،چھونپڑی والے اور دیگر جو لوگ وہاں آباد ہیں انکا کوئی حل نہیں کیا گیا یونیورسٹی کو عوام علاقہ کے حقوق کا خیال رکھنا

چاہیے اور فیصلہ کو دیکھنا چاہئیے پھر کام شروع کرنا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہارسیاسی وسماجی شخصیت،تحریک انصاف آزادکشمیرکے نوجوان رہنماچوہدری انورشہزادنے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ متاثرین کی آباد کاری اور معاوضے کی ادائیگی کی شفافیت جب تک کلیئر نہ ہو انہیں کام نہیں شروع کرنا چائییے ۔ یونیورسٹی کی موضع بنگ کڑتی پر نقل و حرکت کو دیکھنے کے بعد لوگ موبلائز ھونا شروع ھو گئے ۔ چوہدری انورشہزاد کا مزیدکہنا ہے کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہم اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ ہماری مشترکہ گھاس چرائی والی جگہ پر شب خون مارا جا رہاہے، ادھر متاثرین کے پاس نہ قبرستان کی جگہ رہتی ہے نہ کھیل کا میدان ۔ ادھر موجود کھیل کا میدان اور موقع پر موجود دو قبرستان ختم کیے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ہم یونیورسٹی اور اعلیٰ احکام بالا سے کہتے ہیں کہ ھمارے تخفظات کلیئر ھونے تک کام کو روکا جائے اور عوامی رائے کو تسلیم کیا جائے ۔ ہم موضع کے سب سے پہلے مقیم ہیں ۔ ہم نے کورٹ میں تمام پرانہ ریکارڈ لگایا ھے جب کہ جب بندر بانٹ کی گئی تو ریکارڈ کا خلیہ ہی تبدیل کر دیا گیا ۔ ہمارا معاوضے لینے والوں کیساتھ کوئی اعناد نہیں ۔ ہم اپنے حق اور وہاں کے لوگوں کی مفاد کی جنگ لڑ رھے ہیں اور محکمہ مال کے خلاف ہیں جنہوں نے وہاں تفریق پیدا کی اور لوگوں کو غلط گائیڈ کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں