کیا عورت کی میت غیرمحرم مرد اٹھا سکتا ہے؟ شریعت کی روح سے ایک ناقابل یقین تحریر

مردہ عورت کا چہرہ غیرمحرم نہیں دیکھ سکتا نہ ہی قبر میں اتار سکتا ہے۔ البتہ اگر میت کا کوئی محرم موجود نہ ہو تو غیرمحرم قبر میں بھی اتار سکتا ہے۔ تاہم غیرمحرم مرد کے لیے عورت کی میت والی چارپائی کو کندھا دینے میں کوئی حرج نہیں، قرآن و حدیث میں

اس کی کوئی ممانعت بھی بیان نہیں ہوئی، بلکہ جنازے کے ساتھ چلنا اور میت کی چارپائی اٹھانے کو میت کے حقوق میں شامل کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً، وَحَمَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا.جو شخص جنازہ کے پیچھے چلا اور اسے تین مرتبہ اٹھایا اس نے جنازہ کا وہ حق ادا کر دیا جو اس کے ذمہ تھا۔ترمذي، السنن، كتاب الجنائز، باب ما جاء في فضل الصلاة على الجنازة، 3: 359، رقم: 1041، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربياور جنازے کے چاروں پائیوں کو باری باری کندھا دینا سنت ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہےمَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً فَلْيَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهَا؛ فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ فَلْيَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ.جو شخص جنازہ کے پیچھے چلے، اُسے چارپائی کے پورے (چاروں) پائے پکڑنے چاہئیں کیونکہ یہ سنت ہے پھر اس کے بعد چاہے پکڑے اور چاہے چھوڑ دے۔ابن ماجه، السنن، كتاب الجنائز، باب ما جاء في شهود الجنائز، 1: 474، رقم: 1478، بيروت: دار الفكر اس لیے غیرمحرم عورت کے جنازے کو کندھا دینا جائز اور جنازے کے ساتھ چلنا سنت ہے۔ غیرمحرم عورت کا جنازہ اٹھا سکتا ہے ۔ کوئی حرج نہیں ۔حدیث میں مطلقا وارد ہے ۔ واحتملھا الرجال علی اعناقھم ۔ یعنی مرد میت کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں ۔ امام بخاری علیہ الرحمہ کی صحیح بخاری میں تبویب سے بات واضح ہے ۔ باب حمل الرجال الجنازۃ دون النساء ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں