بیٹی کاباپ سے ایساشرمناک عمل جس نے تاریخ بدل ڈالی،اسپین کاسچا اوردل دہلادینے والاواقعہ

لوک داستانیں دنیا کی تاریخ کا ھمیشہ سے ایک اھم حصہ رہی ہیں ـ ان کو پڑھنے سے معاشرے کےحقائق کچھ منفرد طریقے سے اجاگر ہوتے ہیں جو کہ پہلے کسی فرد کے ذہن میں نہی ہوتے اور انکی وجہ سے انسان کو کچھ نئی طرز کی سوچ ملتی ہے

اور وہ زندگی کے مختلف تاریک پہلؤوں کو روشن نگاہ سے دیکھتا ہے ـ ایسی ہی ایک کہانی پیش خدمت ہے:کہا جاتا ہے کہ سپین میں ایک بادشاہ تھا جس نے ایک بوڑھے آدمی کو سزا دی کہ اسکو تا حیات جیل میں ڈال کر اسکا خوردونوش بالکل بند کر دیا جاے ـ چنانچہ اسکو ڈال دیا گیا اور اسکا خورد و نوش بھی بند کر دیا گیا ـ بوڑھے کی ایک ہی بیٹی تھی جس کی خاص درخواست پر بادشاہ نے اسکو اپنے باپ سے مل لینے کی اجازت دے دی ـ اب جب بھی وہ لڑکی اپنے باپ سے ملنے جاتی گیٹ پر اسکی سختی سے تلاشی لی جاتی کہ اسکے پاس کوئی بھی اشیاےء خوردونوش تونہیں ہیں ـ اسکے علاوہ بھی محافظ اور چوکیدار اسکی ملاقات کے دوران چوکس رہتے کہ کسی قسم کی خلاف حاکم بات نہ ہو جاۓـ آہستہ آہستہ بوڑھا آدمی مزید نحیف و کمزور ہونے لگاـ وہ لاغر ہو کر زمین پر گر جاتا اور پھر اٹھنے کے قابل نہ رہتا ـ اس کے جسم کے اعضاء ایک ایک کر کے اسکا ساتھ چھوڑنے لگ گئے ـ بیٹی دن بدن باپ کو گرتا جاتا دیکھ کر بہت پریشان اور آزردہ خاطر رہنے لگی ـ اسکو اپنے باپ کی صحت کی فکر کھائے جاتی تھی ـ وہ اس کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی مگراتنی بے بس تھی کہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی ـ جب بھی لاغرونحیف باپ زمین پر گھسٹتا ہوا اس کے قریب آتا وہ آہیں بھرتی اور رونے لگ جاتی ـ

ایک دن لڑکی معمول کے مطابق تیار ہوئی اور اپنی شیر خوار بچی کو گود میں لے کر گھر سے نکلی ـ سارے راستے باپ کی موت کے خوف نے اسکو گھیرے رکھاـ بالآخر جیل پہنچی ـ دروازے پر پہنچی اور اپنی چیکنگ کرانے کے بعد اندر گئی اورباپ سے ملاقات کی ـ باپ تو ایسے جیسے آخری دموں پہ تھا ـ اسکی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ـ کچھ بھی سوچے بغیر اپنی چھاتی کو باپ کے منہ سے لگا دیا ـ حرام سوچا نہ حلال، گناہ سمجھا نہ نیکی، دن دیکھا نہ رات، سب باتوں سے بے نیاز ہو کر، اور بے خوف و خطر ہو کر اس نے یہ انوکھا کام کر ڈالا ـ اپنی شیر خوار بچی کا بھی حق بھی نہ آڑے آنے دیاـ دربانوں کے خوف سے بس نظر پیچھے رکھی اور اپنا کام جلدی جلدی مکمل کیا ـ اور گھر کو چل دی. دربانوں اور محافظوں کو اس بات کی حیرت تھی کہ بوڑھا کس طرح جانبر ہو رہا ہےـ آخر ایک دن ایک دربان نے چپکے سے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ـ بس پھر کیا تھا، یہ بات بادشا سمیت پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح بھیل گئی. شہر کے علماء نے لڑکی پر بدکرداری کے فتوے لگا دیئے اور عوام نے بہت تھو تھو کی اس لڑکی پر. شرفاء کے مطابق وہ ایک فاحشہ عورت تھی ـ جب بات بادشاہ تک پہنچی تو اسکو سزا دلانے کا سوال اٹھا ـ بادشاہ نے لڑکی کو بلایا اور اس سے کچھ سوالات کئےـ لڑکی نے کہا کہ میں اپنے باپ کو یوں سسکتا بلکتا مرتے نہیں دیکھ سکتی تھی، چنانچہ میں نے اس فعل کا ارتکاب کیاـ اب بادشاہ اسے جو چاہے سزا دے سکتے ہیں. وہ اسے قبول کرے گی مگر باپ کا یوں مرنا دیکھنا اس کو گوارا نہیں ـ بادشاہ اس لڑکی کی اپنے باپ سے بےپناہ محبت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا، اور اسکو انعام و کرام دے کر اسکے باپ کو آزاد کر دیا ـ لڑکی کا گناہ جو انسانوں کی نظر میں ایک بہت بڑا گناہ تھا خدا کے ہاں قبولیت کے درجے پر پہنچ کے عبادت کے برابر رتبہ اختیار کر گیا ـاسی کہانی کی تصویر کشی ایک سپین کے مصور نے کی اور اسکو سپین کے عجائب گھر میں لگا دیاـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں