چکسواری کاسینئرصحافی فرعون بن گیا، سینئرصحافی کاڈھساہواشخص صحافیوں کے پاس رودادلیکرآگیا

چک سواری(مرتضیٰ عطاری سے)چک سواری کے سینئرصحافی کی ظالمانہ داستان منظرِ عام پر،20ہزارروپے کے عوض غریب دُکان دارکالاکھوں کانقصان کردیا،سینئرصحافی کے ظلم کاستایاشخص بالآخرصحافیوں کے پاس پہنچ آیا،میرے مالی نقصان اورہونے والی زیادتی کا ازالہ کیاجائے حوالدارعبدالرشیدکی آزادپریس کلب چک سواری میں دہائی ۔ تفصیلات کے مطابق تلواڑہ چک سواری کے رہائشی حوالدارریٹائرڈعبدالرشیدنے گذشتہ روزآزادپریس کلب چک سواری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ حمیدآبادکالونی چوک میں گذشتہ چھ سالوں سے اپناروزگارچلارہاتھا اورمارکیٹ مالکان کومیری طرف سے کوئی شکایت بھی نہیں تھی ۔ ایک روزہمسایے دُکان دارنے20ہزارروپے کی آفردیتے ہوئے کہاکہ میں اپنی دُکان وسیع کرناچاہتاہوں تم رقم لواوردُکان خالی کردوجس پر میں نے اُسے انکارکردیاکہ میں گذشتہ چھ سالوں سے یہاں بیٹھا بال بچوں کے لیے رزقِ حلال کمارہاہوں ۔ ہمسایے دُکان دارنے مارکیٹ کے منشی چک سواری کے سینئرصحافی عابدحسین چودھری سے بات کی توموصوف20ہزارروپے کے عوض میرے پیچھے پڑگئے ۔ ایک روزمجھے

کال کی تو میں بیوی کے ہمراہ جانوروں کے لیے چارہ لینے گیاہواتھا اورمیری بیوی سعودی عرب میں مقیم اپنے بھائی کی فون کال کے انتظار میں تھی اورموبائل اُسی کے پاس تھا ۔ اسی اثناء میں عابدحسین چودھری نے کال کی توبیوی نے نمبردیکھے بناء کال ریسیوکی ۔ چونکہ میں کچھ فاصلے پرتھا اس لیے منشی عابدحسین نے میراپوچھ کرکال کاٹ دی اورپھردُکان پرموجودمیرے بیٹے کے نمبرسے مجھے کال کی توبیوی نے مجھے فون دیاکہ کوئی صاحب آپ سے بات کرناچاہتے ہیں ۔ میں نے بات کی تومنشی عابدحسین نے میری بات سنے بناء کہاکہ میں تمہیں بڑا اچھا سمجھتاتھالیکن تم توبے غیرت اورگھٹیا انسان ہواورعورتوں سے میری بات کرواتے ہو میں ایساشخص نہیں ہوں یعنی اُس نے بے غیریتی اورعورتوں سے بات کرانے کا الزام لگاکرمیری غیرت کوللکارالیکن میں نے اُسے کچھ بھی نہیں کہا اورکال کرنے کی وجہ پوچھی تومنشی عابدنے کہاکہ کل مجھے ملوکچھ ضروری کام ہے جس پر میں نے کہاکہ مجھے کل کسی کام راولپنڈی کی طرف جاناہے آپ سے بعد میں مل لوں گالیکن منشی عابدنے کہاکہ نہیں اگرتم نے اپنی ماں کادودھ پیاہے توابھی بازاردُکان پرآءو ۔ میں نے بے غیرتی کے الزام اورغیرت کوللکارنے پرکہاکہ میں ابھی آجاتاہوں ۔ پھر میں نے چنددیگرساتھیوں بالخصوص انجمن تاجراں حمیدآبادکالونی کے صدرچودھری شبیرکوبھی فون کیا اوردُکان پرآنے کاکہا اورخودبھی اُسی وقت دُکان پرآگیالیکن منشی عابدوہاں نہیں تھا ۔ فون کرنے پرموصوف نے بتایاکہ کچھ مہمان آگئے ہیں اس لیے ابھی نہیں مل سکتا تو میں نے دیگرساتھیوں اورچودھری شبیرکوساری صورت حال سے آگاہ کیا کہ ایسے منشی عابدنے مجھے دھمکیاں دیں اورمیری غیرت کوللکاراہے ۔ پھر میں منشی عابدکے مرشدحاجی محمدیونس آف بروٹیاں کے پاس گیا اورانہیں ساری رودادسنائی توانہوں نے کہاکہ عابدکوسختی آوازیں دے رہی ہے، میں مارکیٹ مالک سے بات کروں گاوہ آپ سے دُکان خالی نہیں کروائیں گے،آپ کام کرو ۔

حوالدارریٹائرڈعبدالرشیدنے کہاکہ چند دن خاموش رہنے کے بعدمنشی عابدحسین چودھری نے پھرمجھ پردباءوڈالناشروع کردیا اورعلاقے کے تعلق داروں کے ذریعے مجھے دُکان خالی کرنے کاپیغام بھیجتے رہے ۔ میں نے سوچاکہ یہ مضبوط لوگ ہیں اورمنشی عابدچک سواری کاسینئرصحافی بھی ہے،اس لیے بالآخر میں نے دُکان خالی کردی جس سے مجھے لاکھوں روپے کانقصان ہوا اوراس دُکان کی تبدیلی کی وجہ سے میراتاحال معاشی نقصان ہورہاہے ۔ حوالدارریٹائرڈعبدالرشیدنے بذریعہ پریس کانفرنس حکومتِ آزادکشمیرکے اربابِ اختیار،چیئرمین ووائس چیئرمین پریس فاءونڈیشن اورصحافتی تنظیموں سے پرزورمطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ صحافی عابدحسین چودھری کی بدمعاشی،نارواسلوک کانوٹس لیتے ہوئے مجھے پہنچنے والی ذہنی اذیت ومالی نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے صحافی عابدکے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مجھ جیسے دیگرغریب دُکان داراس مافیاکے شرسے محفوظ رہ سکیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں