پڑھیئے،محمدضیاء الرحمن کاکالم: ناقصاں را پیر کامل

نوجوان درویش کو حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر جاروب کشی کرتے ہوئے تین ماہ کا عرصہ ہو چکا تھا ۔ وہ روزانہ تین دفعہ غسل اور تیس دفعہ وضو کرتا کہ کسی طرح اس کے مسئلے کی گرہ کشائی ہو جائے ۔ اس سے پہلے بھی ایک بار کسی مسئلہ سے دوچار ہونے پر اسی دربار سے اس کی مشکل کشائی ہوئی تھی ۔ تین ماہ مسلسل حاضری دینے کے بعد بھی جب مسئلہ حل نہ ہوا تو اسے حکمت خداوندی سمجھتے ہوئے وہ نوجوان خرقہ پوش ایک ہاتھ میں عصا اور دوسرے ہاتھ میں پانی کی چھاگل لیے خراسان کی طرف چل دیا ۔ راستے میں کمش کے چھوٹے سے قصبے میں صوفیا کے ایک گروہ سے ملاقات ہوئی جو ایک سرائے یا خانقاہ میں مقیم تھے ۔ انہوں نے نوجوان درویش کو نا پسند یدگی اوحقارت بھری نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے کہ یہ ہم میں سے نہیں لگتا ۔ وہ درویش یقیناً ان میں سے نہیں تھا لیکن اس کو ان کے ساتھ مجبوراً رات بسر کرنی تھی ۔ رات کو وہ نام نہاد صوفیا اوپر والی منزل پہ بیٹھے کھانا کھانے لگے اور باسی پھپھوندی لگی روٹی اس درویش کے آگے کھانے کے لیے پھینک دی ۔ اس کے بعد وہ لوگ خربوزے کھاتے ہوئے چھلکے اس نوجوان درویش کے آگے پھینکتے رہے اور طنز کے تیر برساتے ہوئے قہقہے لگاتے رہے ۔ اپنی اس توہین و تحقیر پر نوجوان مطمئن حتی کہ خوش دکھائی دے رہا تھا ۔ طعن و تشنیع کا بوجھ صبرو تحمل سے اٹھانے کی وجہ سے نوجوان درویش پر اسرار و حکمت کے نئے نئے باب کھل رہے تھے اور روحانی عرفان حاصل ہونے پر اس کے چہرے پر ملکوتی تبسم کا بسیراتھا ۔ اس کا مسئلہ جس کے لیے وہ حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پاک پہ گیا تھا وہ بھی حل ہو گیا اور وہ جان گیا کہ مشاءخ کرام اپنے درمیان جاہلوں کو کیوں برداشت کرتے ہیں ۔ یہ نوجوان درویش حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمتہ اللہ علیہ تھے جن کو خلق خدا داتا گنج بخش کے نام سے جانتی ہے ۔

حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمتہ اللہ علیہ 400 ھ کو غزنی میں ہجویرکے مقام پر پیدا ہوئے ۔ آپ کا سلسلہ نسب نو واسطوں سے حضرت علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے ۔ علی ہجویری بن عثمان بن سید علی بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابوالحسن علی بن سید حسن بن زید بن حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ بن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ،آپ حضرت ابوالحسن ختلی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید تھے ۔ وہ سلسلہ جنیدیہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے آپ بھی طریقت میں مسلک جنیدیہ کے متبع اور شریعت میں سنی حنفی المذہب تھے ۔ آپ نے حصول علم کے لئے فرغانہ،ماورالنہر، خراسان،مرو وغیرہ کا سفر کیا اور ابو القاسم گرگانی (جنہیں آپ بزرگوں کے بزرگ کہتے تھے) ابوالقاسم قشیری،ابو سعید ابوالخیر اور ابو العباس اشقانی جیسے بزرگوں کی صحبت میں وقت گزارا اور علم و حکمت کے موتی سمیٹے431ھ کے لگ بھگ آپ کے پیر و مرشد ابوالفضل رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو غزنی سے لاہور جا کر تبلیغ کرنے کو کہا ۔ جب آپ نے لاہور میں پہلے سے موجود حضرت حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر کیا تو مرشد نے پھر بھی جانے کا حکم دیا ۔ جب آپ سفری تکلیف و مشکلات کا سامنا کر کے لاہور پہنچے اس دن ایک جنازہ جا رہا تھا جو آپ کے پیر بھائی حسین زنجانی کا ہی تھا ۔ آپ پیر و مرشد کے حکم میں پوشیدہ حکمت کو جان گئے،نماز جنازہ میں شرکت کی اور لاہور میں اسی مقام پر قیام فرمایا جہاں آپ کا مزار پر انوار ہے ۔

لاہور میں قیام کے ساتھ ہی آپ نے وہاں ایک مسجد کی تعمیر کا کام شروع کروایا;46; ابھی مسجد تعمیر کے مراحل میں تھی کچھ علماء وقت نے اس کی سمت پہ اعتراض کیا کہ یہ جنوب طرف جھکی ہوئی ہے بہرحال آپ نے ان کی باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تعمیراتی کام مکمل کیا اور تمام معترضین و ناقدین کو اس مسجد میں نماز پڑھنے کی دعوت دی آپ نے خود امامت کروائی اور بعد میں لوگوں سے کہا کہ اب دیکھو قبلہ کدھر ہے ۔ جب لوگوں نے سامنے دیکھا تو ان کے اور قبلہ کے درمیان تمام حجابات اٹھ گئے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے اسی طرف قبلہ دیکھا جدھر رخ کر کے نماز پڑھی گئی تھی ۔ آپ کی اس کرامت سے جہاں نام نہاد علماء کے منہ بند ہوئے وہیں آپ کو بھی شہرت دوام ملی اور قرب و جوار سے عوام کا سمندر آپ کی طرف امڈ آیا ۔ آپ نے درس و تدریس کا کام مسجد میں ہی شروع کیا ۔ آپ سالک کو نفس سے جنگ،ایثار و قربانی،ظاہریت سے دور رہنے اور علم سیکھنے کی ترغیب دیتے ۔ آپ تصوف بغیر علم کے قائل نہیں تھے ۔ آپ کا فرمان ہے ۔

تصوف کی جڑیں قوی اور اس کی شاخ میوہ دار ہے مگر اس جڑ کو علم کے چشمے سے ہی پانی ملنا چاہیے کیونکہ سب بزرگان تصوف اہل علم ہی ہوئے ہیں;

پنجاب کے حاکم رائے راجو نے جو سفلی علوم میں ماہر تھا اور راجو جوگی بھی کہلاتا تھا،لاہور والوں کو ڈرایا ہوا تھا کہ اگر انہوں نے اسے دودھ بھینٹ نا کیا تو ان کے جانوروں کے تھنوں سے دودھ کی جگہ خون آنے لگے گا ۔ داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے لوگوں کو یقین دلایا کہ اگر وہ آپ کو دودھ دے جائیں تو ان ک جانوروں کو کوئی نقصان نا ہو گا ۔ جب لوگوں نے ایسا کیا تو جانوروں کے تھنوں سے خون آنے کی بجائے دودھ میں اتنی برکت ہوئی کہ ان کے گھروں کے سارے برتن بھر جاتے لیکن دودھ ختم نہ ہوتا ۔ راجو جوگی واقعہ جاننے کے بعد مقابلے پہ آیا لیکن داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے خود کو عاجز پایا اور مشرف با اسلام ہوا ۔ بعد میں آپ کا نام عبداللہ رکھا گیا اور آج دنیا آپ کو شیخ ہندی رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے ۔ آپ داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے پہلے خلیفہ مجاز ہوئے اور آپ نے ہی سرکار کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ آج تقریباً ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی آپ کی نسل ہی داتا دربار کی سجادہ نشین ہے ۔

آپ کی کرامات کی فہرست بہت لمبی ہے جس کا احاطہ کرنا مشکل ہے ۔ گھر باہر،وطن،رشتے ناطے اور سب سے بڑھ کر اپنے روحانی باپ ابوالفضل رحمتہ اللہ علیہ سے جدائی کا صدمہ برداشت کر کے دین اسلام کی تبلیغ و سر بلندی کے لیے بغیر کسی دنیاوی زادراہ اور لالچ کے صرف دو اصحاب خواجہ احمد سرخسی اور ابو سعید ہجویری رحمتہ اللہ علیھم کے ساتھ غزنی سےلاہور میں آنا اور مستقل قیام کرنا خود ایک کرامت سے کم نہیں ۔ آپ کا یہ احسان عظیم سمجھا جانا چاہیے کہ آپ نے تصوف پر رہبانیت کو غالب نہیں ہونے دیا اور اس کو شریعت کے تابع کیا ۔ آپ نے خود اس کا عملی نمونہ بن کر لوگوں کی رہنمائی کی ۔ آپ ہمیشہ اس بات کی تلقین کرتے جس پر خود عمل پیرا ہوتے ۔ آپ کی روحانی شخصیت اور تبلیغ و اصلاح سے متاثر ہو کر سر زمین ہند جو کفر شرک کا گہوارہ تھی وہاں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو راہ حق نصیب ہوئی وہ جو کبھی بت پرست تھے بت شکن بنے اور سنگ دل اس چشمہ ہدایت سے ایسے آبیار ہوئے کہ وہ شبنم کی لطافت اور پھولوں کی نزاکت محسوس کرنے لگے ۔ آپ توکل الی اللہ کے داعی تھے ۔ ساری زندگی جو میسر ہوا پہن لیا چاہے گودڑی ہو یا قبا،پشم کا جامہ ہو یا سفید پیراہن،خرقہ صوفیا کو ظاہری جاہ و جمال کا ذریعہ بنانے کے سخت خلاف تھے ۔ آپ آتش عشق میں جلنے اور طریقت سے آشنا ہوئے بغیر خرقہ پوشی کو دنیا میں نحوست و ریا اور آخرت میں باعث شقاوت سمجھتے تھے ۔

آپ کی تصانیف کی تعداد بہت ہے لیکن جس کو شہرت دوام نصیب ہوئی وہ کشف المحجوب ہے جو تصوف کی کتب میں سند کا درجہ رکھتی ہے ۔ فارسی زبان میں تصوف پر لکھی گئی یہ پہلی کتاب ہے ۔ اس کو تصوف کا آئین یا دستور تصوف کہنا بجا ہو گا ۔ علماء کرام سلسلہ ہجویریہ کو اسی کتاب سے وابستہ کرتے ہیں ۔ ایک ہزار سال سے یہ کتاب گم گشتگان راہ ضلالت کے لیے مشعل راہ اور راہ حق کے متلاشیوں کے لیے حقائق اور معارف کا خزانہ ہے ۔ ہزاروں پیاسے اس سے سیراب ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور رہے گا ۔ شریعت و طریقت میں ہم آہنگی اور توازن کے ساتھ انسانی قوائد و اخلاق پہ مبنی یہ کتاب انتہائی عام فہم ہے جس سے ہر خاص و عام مسفید ہو سکتا ہے ۔ حضرت نظام الدین اولیاء اس نسخہ ہدایت کے بارے فرماتے ہیں کہ جس کا کوئی پیر نہیں وہ اس کو پڑھ لے تو اس کو کامل پیر مل جائے گا ۔

حضرت خواجہ معین چشتی رحمتہ اللہ علیہ جب بغداد سے دہلی کی طرف جا رہے تھے آپ نے داتا دربار پر حاضری دی اور چلہ کشی کی ۔ وہاں سے رخصت ہوتے وقت مزار کے پائنتی دست بستہ کھڑے ہو کر آپ نے یہ شعر پڑھا

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

ناقصاں را پیر کامل, کاملاں را رہنما

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس شعر کی وجہ سے حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کو داتا گنج بخش کہا جاتا ہے ۔ لیکن آپ نے اپنی کتاب کشف الاسرار میں خود لکھا ہے کہ لوگ آپ کو گنج بخش کہا کرتے تھے ۔ غالباً آپ کی زندگی میں اس لقب کی وجہ بہت سارے لوگوں کا آپ کی روحانی شخصیت سے فیض یاب ہونا ہے ۔ بہرحال حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے شعر سے ;3939;گنج بخش;3939; زبان زد عام ہوا ۔

حضرت داتا گنج بخش ہجویری چند روز کی علالت کے بعد 465 ھ کو ماہ صفر میں ہزاروں لاکھوں محبت کرنے والوں کے دلوں کو سوگوار کرتے ھوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 18, 19 20 صفرالمصفر کو منایا جاتا ہے ۔ آج بھی آپ کے 974ویں عرس کی تقریبات جاری ہیں ;46; خواجہ معین الدین چشتی،بابا فرید گنج شکر،شہزادہ دارا شکوہ جیسے بلند پایہ بزرگ آپ کے مزار اقدس پر حاضری دے چکے ہیں ۔ غوری،خاندان غلاماں ،مغل بادشاہ جو بھی سر زمین لاہور پر فتوحات کی غرض سے آیا اس نے شہنشاہ لاہور کے دربار پر حاضری دی ۔ آپ کے مزار پر ہر سال قرب و جوار سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں اور روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “پڑھیئے،محمدضیاء الرحمن کاکالم: ناقصاں را پیر کامل

  1. بہت خوب پروفیسر صاحب آپ کی تحریر پڑھ کر داتا صاحب کے بارے میں کافی معلومات ملیں ھیں
    کیا کمال کے لوگ تھے
    آپ کی تحریر کشف المحجوب کی سمری ھے جو پڑھنے والوں کو کافی مدد دے گی
    ضیا الرحمان اللہ آپ کو مزید قلمی خدمت کا موقع دے
    یقیناً آپ قوم کا سرمایہ ھیں

تبصرے بند ہیں