کائنات میں وہ جگہ جہاں بچے کی پیدائش کسی صورت ممکن نہیں

برلن(ویب ڈیسک) تاریخ میں پہلی بار خلا میں بچوں کی زچگی کے مشن پر کام شروع ہوگیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ بارہ سال کے اندر اندر خلا میں بچے کی پیدائش کا عمل ممکن ہوسکے گا۔تفصیلات کے مطابق خلا میں بچے پیدا کرنے کے مشن پر کام شروع کردیا گیا ہے، حاملہ خواتین کو 24 سے

36 گھنٹے کے مشن پر مدار میں قائم خلائی اسٹیشن پر روانہ کیا جائے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں قائم ’اسپیس بورن‘ کے چیئرمین ڈاکٹر ایلبرٹ کا کہنا ہے کہ 2031 تک خواتین خلا میں بچے جن سکیں گی، جس کا مقصد خلا میں انسانی آبادی کے تصور پر تحقیق کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ماہرین جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس مشن پر تحقیق کررہے ہیں، تجربے کے لیے ایک کے بجائے درجنوں حاملہ خواتین کو میڈکل اسٹاف اور ڈاکٹروں کے ہمراہ خلا میں بھیجا جائے گا۔ڈاکٹر ایلبرٹ نے کہا کہ مشن کے پہلے مرحلے میں زمین کے سب سے نچلے مداد پر زچگی کا عمل یقینی بنایا جائے گا، اور یہ مشن کسی بھی قسم کے بڑے خطرے سے محفوظ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خلا میں صرف بچے کی زچگی پر کام کررہے ہیں، موسم کے حالات اور مداد کے گرد کشش ثقل کو مدنظر رکھتے ہوئے 2031 سے پہلے مشن کو تجربے کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ اس مشن کے لئے درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ ابھی سے شروع کردیا گیا ہے تاکہ منتخب شدہ خاتون کی تربیت کا آغاز کیا جا سکے۔ خلائی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مشن کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ خلا میں بچے کو جنم دینا کیسا رہے گا، اور زچہ و بچہ کے لئے اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ یہ اقدام خلا میں انسانی بستیاں بسانے کے خواب کی تکمیل کی جانب پہلا قدم بھی قرار دیا جارہا ہے۔ کمپنی اس بات پر بھی سوچ بچار کررہی ہے کہ خلا میں مردانہ سپرم اور زنانہ بیضوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا مطالعہ کیا جائے تاکہ یہ جاننا ممکن ہوسکے کہ فطری طریقے سے خلا میں حمل کا ٹھہرنا کس حد تک ممکن ہے۔ اس ضمن میں اہم سوال یہ ہے کہ کشش ثقل کی قوت انتہائی کمزور ہونے کے باعث سپرم کی حرکت کس طرح متاثر ہوگی اور کیونکر اس کے لئے ممکن ہوسکے گا کہ یہ بیضے کو فرٹیلائز کرسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں