میرپور، 40 سال عدالتی مقدمات لڑنے کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے برخلاف غیر مستحق افراد کو زمینیں الاٹ ہو گئی،

میرپور(راجہ قیصرافضل سے) 1965-66کی الاٹ شدہ آراضی جو کہ اہلیانِ بندرال نے خرید بھی کر رکھی تھی اس کے مالکانہ حقوق لیے کے لیے متاثرین کو 40 سال تک عدالتوں کے چکر لگوائے گئے جس میں دو سو کے قریب خاندان متاثر ہوئے ۔ سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر نے اس حوالے سے 21 جون 2017 کو متاثرین کے مالکانہ حقوق دیے جانے کے حوالے سے فیصلہ سنایا جس کے بعد آڑھائی سال گزر جانے کے باوجود بھی کوئی حکومتی اور انتظامی ادارہ عملدرآمد کروانے میں لیت و لعال سے کام لے رہا ہے جبکہ کہ اس فیصلے کے برخلاف پٹیشنرز کو الاٹمنٹ کر دی گئی ۔ اہلیان بندرال کا چیف جسٹس ابراہیم ضیاء اور جسٹس سعید اکرم سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق اہلیان بندرال ہملٹ جو کہ میرپور شہر کے قریب ہی واقع ہے جس کے متاثرین اپنی ہی آوارڈ شدہ آراضی 87 کنال اور 8 مرلے واپڈہ حکام سے بذریعہ آزاد حکومت سال 1965-66سے خرید کر پختہ مکانیت بنا کر متاثرین منگلا ڈیم ہونے کی وجہ سے آباد چلے آرہے ہیں اس حوالے سے 200 کے قریب خاندان متاثر ہو رہا ہے جو کہ اپنی آرازی کا مقدمہ پچھلے چالیس سال سے لڑھ رہے ہیں ۔ جو کہ پرائیویٹ آبادی ہے اور جہاں پر کسی قسم کی کوئی سرکاری تنصیب بھی منصوب نہ ہے ۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر نے 21جون 2017کو متاثرین کے مالکانہ حقوق دیے جانے کے حوالے سے فیصلہ سنادیا جس کے بعد بھی عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے 4 دفعہ ریمانڈر مکتوب بھی تحریر کیا جس کے بعد بھی آڑھائی سال گزر جانے کے کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ معزز عدالت کے فیصلے کے بعد بھی متاثرین کی جگہ ان کے دوسرے غیر مستحق افراد کو آراضی الاٹ کر دی گئی جو کہ سراسر توہین عدالت ہے ۔ متاثرین علاقہ کا چیف جسٹس آف آزاد کشمیر ابراہیم ضیاء اور جسٹس سعید اکرم صاحب سے معاملے کو نوٹس لیتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کروایا جائے تاکہ قانون کی بالا دستی قائم ہو سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں