پاکستانی نوجوان نے بڑاکام کردکھایا،برطانیہ میں لڑکی کوجسم فروشی سے بچالیا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک پاکستانی نژاد ٹیکسی ڈرائیور نے یورپی خاتون کو جنسی غلامی سے بچا لیااور دنیا کے لیے انسانیت کی ایک مثال قائم کر دی۔ میل آن لائن کے مطابق طاہر محمود نامی اس ڈرائیور کی ٹیکسی میں ایک حاملہ خاتون آ کر بیٹھی جس کا تعلق مشرقی یورپ سے تھا۔ اسے رابرٹ اینیسکو نامی انسانی سمگلر نے برطانیہ بلایا تھا۔ جب وہ طاہر محمود کی ٹیکسی میں بیٹھی اور اس کی رابرٹ سے بات کروائی تو رابرٹ نے طاہر سے کہا کہ وہ اس خاتون کو ’کوینٹری‘ قحبہ خانے پہنچا دے۔

قحبہ خانے کا سن کر طاہر محمود کا ماتھا ٹھنکا۔ اس نے دوران سفر اس خاتون سے استفسار کیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس نے طاہر کو بتایا کہ رابرٹ نے اسے ’مساجر‘ کی نوکری کا جھانسہ دے کر برطانیہ بلایا اور یہاں لا کر اسے جسم فروشی پر مجبور کر دیا۔ اب وہ اس قحبہ خانے میں رہتی ہے اور اس وقت بھی ایک گاہک سے مل کر آ رہی ہے۔ طاہر نے یہ ماجرا سنا تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دے دی جس نے رابرٹ کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

رابرٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے ضمانت مل گئی۔ اب عدالت نے اس کو 9سال قید کی سزا سنا دی ہے تاہم سزا ہونے پر رابرٹ پیش ہونے کی بجائے فرار ہو گیا اور تاحال مفرور ہے۔ رپورٹ کے مطابق طاہر نے 20فروری 2018ءکو رومانیہ کی اس خاتون کے متعلق پولیس کو اطلاع دی تھی۔ اس کی نشاندہی پر پولیس نے کوینٹری قحبہ خانے پر چھاپہ مارا اور وہاں سے دیگر کی لڑکیوں کو بھی ریسکیو کیا گیا جنہیں وہاں جنسی غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں