پڑھیئے،نجمہ ظہورکاکالم:مودی اورہٹلر میں مماثلت

ہٹلر کی نسل کشی کا درد ناک واقعہ ہر ایک کی زبان پر ہے لیکن بھارتی نسل کشی سی دنیا بے خبر ہے۔ ستمبر 1950 کو بھارتی ریاست گجرات کے علاقے وادنگر میں پیدا ہونے والے نریندر مودی کو بھارت میں نازی ہٹلر کا نائب سمجھا جانے لگا ہے۔جس طرح ہٹلر کی پیدائش ایک غریب گھرانے میں ہوئی اس طرح مودی کی پیدائش گجرات کے ایک غریب خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد دامودر داس ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتے تھے اور والدہ ہیرا بین گزر بسر میں مدد کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔ اسی طرح ہٹلر کی ماں بھی ایک یہودی خاندان میں گھر داری کرتی تھی۔بچپن میں خود نریندر مودی اپنے والد کے ساتھ ٹرینوں میں چائے بیچا کرتے تھے۔ جیسے ہٹلر کی تعلیم کم تھی اور اپنی تعلیم کو خیرآباد کر کے جرمنی چلا گیا تھا اور جنگ عظیم میں شمیولیت اختیار کی ایسے ہی مودی نے بھی تعلیم کو خیر آباد کہہ کر دس سال کی عمر میں آرایس ایس میں شمیولیت اختیارکی۔ آر ایس ایس اور نازی نظریات میں بہت سی باتیں مشترک پائی جاتی ہے۔ جسے کہ نازی نظریات میں معائدہ ورسائی کا خاتمہ اور یہودیوں کے شہری حقوق کا خاتمہ شامل ہے اسی طرح مودی نے بھی کشمیر سے معاہدات و رسائی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ وہاں رہنےوالے شہریوں کے حقوق بھی ختم کر دیئے۔ ہٹلر کے نزدیک صرف جرمن قوم کے علاوہ کسی اور کو نہ ہی جینے اور نہ ہی مراعات کا حق تھا۔ہٹلر کی طرح مودی کے نزدیک بھی ہندو توا کے تحت ہندوؤں کے علاوہ بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکار خصوصاً کشمیری مسلمانون کو جینے کا نہ حق ہے اور نہ مراعات حاصل کرنے کا۔جس طرح ہٹلرنازی نےجرمنی میں غیر جرمنوں کی نسل کشی کی اسی طرح ہٹلر کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے بھی 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی پشت پناہی کی، کئی ہزار مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا، مسلمانوں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیاں کی گئیں، حاملہ مسلمان خواتین کے پیٹوں میں خنجر گھونپے گئے، مسلمان بچوں کو پٹرول پلا کر زندہ جلا دیا گیا۔ یاد رہے کہ اس پہلے 1947 میں جموں میں بھی مسلمانوں کی نسل کشی کی بدترین مثال موجود ہے اس وقت تین لاکھ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا تھا مسلمانوں کے قتل عام سے چناب کا سب سے بڑا معاون دریا “توی” خون سے بھر گیا تھا۔ اس وقت بھی نسل کشی کرنے کا مقصد مسلم اکثریتی خطے کو مسلم اقلیت میں تبدیل کرنا تھا۔ ایک بار پھر مودی پھر 2002 کی یاد تازہ کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کو تیار ہے 5 اگست 2019 کو پورے کشمیر میں کرفیو لگا کر بند کر دیا ہے جہاں سیکڑوں لوگ بیماری اور بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ سیکڑوں نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے مسلمان خواتین کی عصمتیں تار تار ہورہی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں