میرپورکے نوجوان نے برطانیہ میں مقیم آزاد کشمیراورپاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے بارے تہلکہ خیزانکشافات کردیئے

میرپور(بیورو رپورٹ)میں اپنے تمام ان لوگوں سے اپیل کرتا ہوں جو UK میں رہتے ہیں کہ اپنے بیٹوں کی شاد ی اپنے آبائی علاقے یا آزاد کشمیر و پاکستان کے علاقوں سے ہر گز نہ کریں۔کیونکہ اب وہاں کی زیادہ تر لڑکیاں اور انکے والدین صرف برٹش نیشنل ہونے کے لیے برٹش نیشنلٹی ہولڈر لڑکوں سے شادی کرواتے ہیں اور شادی کرنے والے لڑکے اور اسکے والدین کے ساتھ نوسربازی کرتے ہوئے مخصوص مدت کے بعد ایسی صورتحال بنا دیتے ہیں کہ برٹش لڑکے ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار برمنگھم U.Kکے ویسٹ مڈلینڈ کے رہائشی صغیر احمد نے اپنے تحریر کردہ خط میں کیا۔صغیر احمد نے لکھا میرا تعلق بناں گراں پلاک ضلع میرپور سے ہے اور UK نیشنل ہو ں۔اپنے علاقے کی شدید خوا ہش پرمورخہ31-07-2016 کو عظمٰی دُختر ممتاز عرف تاج سکنہ اُپلی پلاک ضلع میرپور سے ہو ئی۔ میں اپنی شادی بڑی دھوم دھام سے رچائی اور تقریباً20لاکھ روپے اس شادی پر خرچ کیے۔اس شادی پر میں اور میرا پورا خاندان بہت خوش تھا۔مگر مجھے یا میرے خاندان والے اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ شادی کسی خاص مقصد کے لیے رچائی گئی ہے۔شادی کے بعد میں مورخہ27-08-2016کو UK واپس آگیا تاکہ UKکے قانون کے مطابق اپنی بیوی کے ویزے کے کاغذات تیار کروا سکوں۔ صغیر احمد نے لکھا کہ میں نے دن رات محنت کی اور اپنی بیوی عظمٰی کے کاغذات تیار کروا کر اسکا کیس جمع کروایا اور ویزہ لگنے پرعظمٰی UKآگئی میں بہت خوش تھا کہ میری بیوی گھر آگئی ہے اب مجھے کوئی پریشانی نہی ہو گی۔مگر میری یہ خام خیالی تھی۔ مگر میں جان بوجھ کر نظرانداز کرتا رہا۔کئی بار میں خود اسکو فون کرتے ہوئے سُنا کہ میں تمارے بغیر نہی رہ سکتی اوراس گھر سے کسی بھی و قت بھاگ جاؤں گی اورسیٹل ہونے پر تمکوUKبُلا لوں گی وغیرہ وغیرہ اور اگر پوچھتا تو کہتی کہ اپنے ابو سے بات کر رہی ہوں میں اتنا کچھ صرف اپنا گھر بچانے کے لیے بردا شت کرتا رہا۔مگر میری بیوی عظمٰی کے بدلتے لہجے اور نظراندازی نے بہت پریشا ن کیا۔مورخہ 13-04- 2018کا دن نہ بُھولنے والا دن ہے جب ہمار ے خلاف ایک بے بنیاد کیس میری بیوی عظمٰی نے بنایا کہ مجھے (عظمٰی)کوزہر دیا گیا ہے۔ اورا س کیس کے ساتھ ہی عظمٰی اپنی ماسی مقصود کے گھر ایک فوتگی کے بہانے چلی گئی۔انکل خالق(تاج کا بھائی) اور ماسی مقصود میاں بیوی ہیں اور بے اولاد ہیں۔اسکے باوجود میرے والدین کتنی مرتبہ انکل خالق کے گھر گیے کہ اپنی بہو (عظمٰی) کو راضی کرکے لے آ ئیں مگر ان دونوں میاں بیوی نے عظمٰی کا ساتھ دیا۔اورعظمٰی کی واپسی اپنے گھرنہ ہوئی۔میں نے اپنی بیوی کے بہت نازونخرے اُٹھائے قیمتی تحفے دئیے۔UKمیں رہ کر اسکا پاکستان میں یعنی اسکے اپنے گھر جب تک ویزہ لگتا اسکو ہر چیز دی۔تاکہ اسکو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔اپنا آپ مار دیا مگر عظمٰی میری بیوی نہ بن سکی۔ متعدد بار اس نے کئی طرح کے اشارے دیے کہ میں چلی جاؤں گی مگر میں نے اسکو سمجھانے اور ہر طرح سے دلجوئی کی تاکہ ہمارا گھر بس سکے مگر والدین کی ملی بھگت سے UKآنے والی میری بیوی عظمٰی نے ایسی مثال قائم کردی جسکی مثال جب تک میں زندہ ہوں لوگوں کو دیتا رہوں گا۔کیونکہ عظمٰی نے انکشاف کیا تھا کہ میں جس سے پیار کرتی ہوں میں نے اُسی سے شادی کرنی تھی مگر تمارا رشتہ آنے پر میرے ماں باپ نے کہا کہ UK کا رشتہ ہے تم شادی کر لو اور وہاں جاکر نیشنلٹی ملنے پر صغیر کو چھوڑ دینا۔اس انکشاف نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔اور میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر ڈپریشن میں چلا گیا۔اور انتہائی بُرے مالی حالات کا شکار ہو گیا۔ڈپریشن کی وجہ سے جا ب بھی ختم ہو گئی اور اسی دوران عدالتی کیس بھی چل پڑا تاہم عدا لت میں عظمٰی نہ تو کوئی گواہ پیش کرسکی اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کرسکی جس پر 8مہینے چلنے والے جھو ٹے اور بے بنیاد کیس سے میں باعز ت بری ہو گیا۔اگر میں یا میر ے گھر والے غلط ہوتے تو برٹش کورٹ ہمیں سزا دیتی۔مگر اللہ کی ذات نے سچ اورجھوٹ کو واضع کیا۔صغیراحمد نے کہا کہ کم از کم اس دور میں اگر UKنیشنل پاکستانی لڑکے نے اگر پاکستان یا آزاد کشمیر جا کر شادی کرنی ہے تو میرے کیس کو سامنے رکھ کر کریں تاکہ میرے کسی بھائی یا دوست کا گھر اس نہ اُجڑے۔موجودہ دور کے بہت سے ماں باپ جو عظمٰی کے ماں باپ کی طر ح ہیں اپنی بیٹی کی شادی صرفUK نیشنلٹی کے لیے کرتے ہیں کسی کا گھر بسانے کے لیے ہرگز نہی کرتے میریUK میں بسنے والے اپنے تمام ہموطنوں سے اپیل ہے کہ ایسے لوگو ں سے پرہیز کریں۔تاکہ کل آپکا گھر اس طرح نہ اُجڑے۔جس طرح میں اُجڑا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں