تھانوں میں موبائل فون لے جانے پر پابندی،حکومت نے بھی اہم اعلان کردیا

کراچی(ویب ڈیسک) وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب کا تھانوں کے اندر کیمرہ فون لے جانے پر پابندی ناجائز حکم ہے، پولیس بہتر نہیں ہوئی اس کا رویہ ماضی جیسا ہی ہے، مولانا فضل الرحمن سیاسی بیانیہ کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتے ہیں تو شوق سے آئیں، مگربتائیں دس سال بطور سربراہ کشمیر کمیٹی کشمیر کیلئے کیا کام کیا؟ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا کہ نئے انتخابات کے بغیر ملک کے مسائل کا حل نظر نہیں آتا، پوری اپوزیشن استعفیٰ دیدے تو نئے انتخابات کی طرف جاسکتے ہیں، نواز شریف کا مولانا فضل الرحمن کو پیغام پہنچ چکا کہ ہم آپ کے لانگ مارچ کی حمایت کریں گے، نواز شریف کا کہہ دینا کافی ہے اب قیادت جائے نہ جائے عوام احتجاج میں شامل ہوں گے۔پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ایک سال میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا ہے تو تاریخی ٹیکس شارٹ فال کیوں ہے، مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ میں شرکت کیلئے اصولی اتفاق کیا ہے۔روزنامہ جنگ کے مطابق علی نواز اعوان نے کہا کہ پچھلے دس سال میں قرضہ 24ہزار ارب بڑھ کر 30ہزار ارب ڈالرز تک جا پہنچا، حکومت قرضہ لے کر سبسڈائز کر کے نہیں چلائی جاسکتی ہے، معیشت کو استحکام کی طر ف لے کر جارہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اگلی حکومت یہ نہ کہے کہ پچھلی حکومت کی وجہ سے ٹیکس لگانا پڑرہے ہیں، ن لیگ کی حکومت نے چار سال روپے کی قدر زیادہ رکھی ہم حکومت میں آئے تو ملک دیوالیہ کے قریب تھا، صرف دو ہفتے کے زرمبادلہ کے ذخائر موجود تھے، چین اور دیگر دوست ممالک کی مدد سے مشکل صورتحال سے باہر نکلے، موجودہ حکومت کی کوششوں سے درآمدات کم ہوئیں، اس بار ریونیو ٹارگٹ ہدف کے قریب ہے۔جاوید لطیف نے کہا کہ احتجاج کیلئے کنٹینر دینے کے دعوے کرنے والی حکومت مریم نواز کے چار جلسے برداشت نہیں کرسکی، عمران خان امریکا میں پاکستان کے مفادات کا سودا کر کے آئے ہیں، عمران خان نے امریکا میں کشمیر، افغانستان اور سی پیک رول بیک کرنے کا سودا کیا، نواز شریف کو جس اقامہ پر سزا دی گئی وہ ان کا گناہ نہیں تھا، بھٹو کو ایٹمی پروگرام کی سزا دی گئی جبکہ نواز شریف کو سی پیک کی سزا ملی، نواز شریف سی پیک نہیں کرتے تو ان کی حکومت کو ختم نہیں کیا جاتا۔ مصطفی نواز کھوکھرنے کہا کہ پی ٹی آئی معاشی حالات سے واقف تھی اس کے باوجود لوگوں سے وعدے کیے، اسد عمر کو چار سال ایسے پیش کیا گیا جیسے وہ آتے ہی معیشت ٹھیک کردیں گے، پی ٹی آئی نے ایک سال میں دس ہزار روپے قرض لے کر قرضے لینے کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ،اگر ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا ہے تو تاریخی ٹیکس شارٹ فال کیوں ہے، پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بجٹ خسارہ ہے، جی ڈی آئی سی آرڈیننس سے حکومت میں بیٹھے لوگو ں کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں