گھڑی ڈوپٹہ۔زہریلی چائے اور کلچہ کھانے سے زندگی کی بازی ہارنے والی دو معصوم بچیوں کی نماز جنازہ ادا آبائی گاؤں میں آہوں اور سسکیوں کے سائے تلے سپرد خاک

گھڑی ڈوپٹہ۔زہریلی چائے اور کلچہ کھانے سے زندگی کی بازی ہارنے والی دو معصوم بچیوں کی نماز جنازہ ادا آبائی گاؤں میں آہوں اور سسکیوں کے سائے تلے سپرد خاک۔تفصیلات کے مطابق گڑھی دوپٹہ کے گاوں موئیاں میں دو بچیاں زہریلی چائے پینے سے جان بحق تیسرے بچےکومظفرآباد ریفر کر دیا گیا۔
زندگی کی بازی ہارنے والوں میں
حرا فاطمہ دختر ساجد عباسی عمر 6 سال
عجوا فاطمہ دختر ساجد عباسی عمر 2 سال
جبکہ نعمان ولد ساجد عباسی عمر سات سال ہسپتال داخل ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کواڑھائی بجے کے قریب جب بچوں کی حالت خراب ہوئی تو ان کو ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی بچیوں نے دم توڑ دیا جبکہ نعمان کو زندگی نے ہسپتال پہنچنے کی مہلت دے دی ۔
اس حادثے کی اطلاع میڈیا پر آتے ہی انتظامیہ حرکت میں آئی اور واقعہ کی تحقیقات کا آغاز ہوا ۔ ابتدائی معلومات میں پتہ چلا کہ بچوں کی والدہ نے ان کو چائے بنا کر دی جس میں کسی زہریلی شے سے بچوں کیساتھ یہ حادثہ رونما ہوا۔
عجوا اور حرا کی لاشیں جب ان کے گھر موئیاں ( گڑھی دوپٹہ ) پہنچی تو پولیس بھی وہاں پہنچ چکی تھی۔
پولیس آفیسر ( منظر حسین) کے مطابق ساجد عباسی کا کمرہ انتہائی سادہ مگر نفاست سے سجا ہوا تھا ۔ ہر شے قرینے سے رکھی ہوئی تھی۔ موقعہ سے جتنی بھی کھانے والی اشیاء تھیں جن میں زہر ہونے کا خدشہ ہو سکتا تھا انکے سیمپل جمع کر کے رپورٹ کے لیے بھیج دئیے گئے ۔ اور گھر کے افراد سے ابتدائی پوچھ گچھ بھی جاری تھی۔
دوسری جانب ایس ایچ او تھانہ گڑھی دوپٹہ ( جاوید گوہر )جو اس وقت ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ننھے “نعمان” کے پاس موجود تھے ، جو معدہ صفائی کے بعد اب ہوش میں آ چکا تھا ۔
نعمان نے جاوید گوہر کو بتایا کہ ہماری چچی ( ر) نے ہمارے منہ میں کوئی سفوس سا ڈالا جس کے بعد ہماری یہ حالت ہو گئی۔
یہ ایک چونکا دینے والا انکشاف تھا ۔۔
پولیس نے جب ملزمہ کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو گاوں کی اکثریت بشمول ( فیملی ) مزاحمت میں کھڑی ہو گئی۔
بچیوں کے والد ساجد عباسی نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کرتے ہوئے مسمات ( ر ) کو فی سبیل اللہ معاف کرنے کا اعلان کر دیا ۔
زبردستی زہر کھلانے سے تڑپ تڑپ کر ہلاک ہونیوالی معصوم عجوہ اور حرا کی لاشوں کو چھوڑ کر اُن معصوموں کی دادی بھی پولیس کی گاڑی کے آگے آن لیٹیں کہ پولیس ہمارے ساتھ ظلم کر رہی ہے۔
(یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہیکہ پولیس تھانہ گڑھی دوپٹہ کے پاس ایس ایچ او سمیت پانچ افراد کی نفری تھی۔ )
بچیوں کے والد کے مقدمہ درج کروانے کے انکار کے بعد صورتحال پیچیدہ ہو چکی تھی ۔ اسی اثنا میں بچیوں کی تڑپتی ماں نے کہا کہ میں یہ ظلم معاف نہیں کر سکتی ۔ جس پر اُس کو اس کے خاوند اور سسرال کی دیگر عورتوں سے مارپیٹ کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔
پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے لے جانے کی کوشش کی تو ایک بار پھر سے فضا کشیدہ ہو گئی ۔ گاوں کی اکثریت کا موقف تھا کہ جب والد نے معاف کر دیا ہے اور کسی قسم کی کارروائی نہیں کرنا چاہتا تو پھر پولیس کیوں یہ سب کرنا چاہتی ہے۔ ہم نہ مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کروانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔
بچوں کی والدہ اعوان پٹی کے اعوان خاندان سے ہیں جبکہ بچوں کے والد تعلق عباسی خاندان سے تو اس موقعہ پر دونوں علاقے کے لوگ بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گے اور اُن میں بھی حالات تناو کی صورت اختیار کر گئے۔
تاہم پولیس پارٹی نے نہایت سمجھداری سے رات گئے پوسٹ مارٹم کروا لیا ہے۔
سی ایم ایچ کی چلڈرن وارڈ میں موجود نعمان کی والدہ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اتنی کیا دشمنی ہو گئی تھی آپکی دیورانی ( ر) سے جو اُس نے اتنا انتہائی قدم اُٹھایا ؟
تو اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی شادی اُنکے خاوند کی خواہش پر اُن کیساتھ ہوئی تھی جو آوٹ آف فیملی ( خاندان سے باہر) تھی اور اس بات کا ساجد کے گھر والوں کو دکھ ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ وہ 9 بجے گھر سے بچوں کو چائے پلا کر دروازے کو باہر سے کنڈی لگا کر ماتم والے گھر گئی ۔ 11 بجے جب جنازہ اُٹھ رہا تھا اُس وقت میری ساس نے مجھے وہاں بتایا کہ بچوں کو اُلٹیاں لگی ہوئی ہیں ۔میں فوراً گھر آئی تو دیکھا کہ بڑی بیٹی کو موشن رُک ہی نہیں رہے اور دوسرے بچوں کی حالت بھی خراب تھی۔
میں نے فون پر نعمان کے والد سے رابطے کی کوشش شروع کر دی۔ پتہ نہیں میں کس کس کو فون کر رہی تھی ۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا ۔
میں اپنی بچیوں کو نہ تو بچا سکی اور نہ ہی اُٹھا سکی ۔۔۔

رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے ، سی ایم ایچ کی چلڈرن وارڈ میں رات کے ڈیڑھ بجے ایک ماں جس کی 2 بیٹیاں آج ہی زہر دیکر ماری گئی ہیں ۔۔۔ وہ اکیلی اپنے اکلوتے سہارے کو گود میں رکھے نم آنکھوں سے نو محرم کی رات عرش والے سے شہدائے کربلا کے صدقے اپنے لخت جگر کی زندگی مانگ رہی تھی۔ اُسکو شاید سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ بیٹیوں کا ماتم منائے یا اپنوں کی بے حسی کا ۔۔۔۔
اس سارے معاملے میں پولیس کا کردار قابل ستائش رہا ۔ جب اہل علاقہ نے بچیوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم سے دینے کے لیے انکار کیا تو پولیس کا موقف تھا کہ ہم اپنا فرض ادا کریں گے چاہے اُس کے لیے ہماری لاشیں ہی یہاں سے جائیں ۔ اسوقت پولیس کی تعداد 5 تھی جبکہ دوسری جانب گاوں کی اکثریت جمع تھی۔
ایک دوسرے موقعہ پر جب لواحقین مقدمہ درج کروانے سے انکاری تھے تو بھی پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کا موقف اپنایا ۔
والد کے مقدمہ درج کروانے سے انکار کے بعد قانون کیا کرے گا ؟
کیا ریاست دو معصوم بچوں کے اس طرح بے رحمانہ قتل پر خاموش رہے گی؟
وزیر اعظم آزاد کشمیر جو ان دنوں اپنے دونوں بیٹیوں کے ہمراہ بیرون ملک ہیں اور شاید ابھی آنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے ہیں اگر یہ پوسٹ یا خبر پڑھیں تو “نوٹس “ لے لیا گیا کا میسج کسی کو کر کے اپنے وزیر اعظم ہونے کا یقین پختہ کرتے رہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں