پڑھیئے،محمدضیاء الرحمن کی تحریر: حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ علیہ از(خرقہ پوش)

اگراولیاء کرام کی زندگیوں کے تمام ابواب کابغورمطالعہ کیاجائے تویہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ان کامقصدحیات ایک صحت مندمعاشرہ اورسماج کی تشکیل تھی ۔ ایک ایسامعاشرہ جس میں محبت،اخوت،رواداری،انسان دوستی اوربالخصوص ایثاروقربانی کاراج ہو ۔ ان کی زندگیاں ،آخرت اورحُسنِ حقیقی پرمرکوزرہیں ۔ اللہ اوراس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں سرشاران صوفیاء کرام نے اپنی بے پناہ ریاضت اورمجاہدات سے اسلام کی عملی تشریح کوفانی دنیاکے سامنے اس خوب صورت انداز میں پیش کیا کہ آج بھی صدیاں گزرنے کے باوجودلاکھوں کروڑوں دلوں پرحکمرانی کرتے ہیں ۔ یہ بوریانشین جوعجزوانکساری کاپیکرتھے ان کی زندگیوں میں پڑھنے والوں کے لیے سامانِ بصیرت اورگنجینہَ حکمت ہے ۔ آج کے نفسانفسی کے دور میں ان کی زندگیوں کامطالعہ اوربھی زیادہ ضروری ہوگیاہے کیوں کہ ایک خاص طبقہ یہ بات پھیلانے میں شب وروز سرمایہ اوروقت لگارہاہے کہ اسلام طاقت اورتلوارکے زورپرپھیلاہے ۔ ان کاردضروری ہے اورعام آدمی کویہ بتانا انتہائی ناگزیرہوچکاہے کہ اسلام جبرسے نہیں بلکہ اپنی مٹھاس ،حلاوت اورفطری اصولوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں راسخ ہوا ۔ دوسرا آج کے دور میں نفسانی خواہشات میں لتھڑے ہوئے انسان کے لیے ان کے بارے میں پڑھنا اوربھی ضروری ہے تاکہ وہ کم ازکم درمیانی راہ تواپنائے جس میں دنیاداری کے ساتھ ساتھ فکرِ آخرت بھی ہو ۔ گوہم جیسے دنیاداروں کے لیے ان کے بتائے ہوئے راستے پرقدم بہ قدم چلنادشواراوربہت مشکل سہی مگر کچھ حصہ تواپنی آخرت کے لیے بچارکھیں ۔ ان بوریانشینوں کے واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔ ان کے پڑھنے سے ہمارے ایمانی جذبے کونئی فرحت اورتازگی محسوس ہوتی ہے ۔ حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ علیہ حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی نسلِ پاک میں وہ ہستی ہیں جن کوبرصغیرپاک وہندکے مسلمان زہدالانبیاء کے نام سے بھی جانتے ہیں ۔

بابافریدکوٹھوال کے مقام پر569ھ میں پیداہوئے ۔ (تاریخ پیدائش میں اختلاف پایاجاتاہے) ۔ آپ کی عمر5یا6سال ہوگی جب آپ پدرانہ شفقت سے محروم ہوگئے ۔ گیارہ سال کی عمر میں سیدنذیراحمدجوعالم وفاضل تھے ان کی نگرانی میں آپ نے قرآن مجیدحفظ کرلیاتھا ۔ لڑکپن میں ہی آپ دنیاوی دلکشیوں اورشرارتوں سے بے نیازتھے ۔ ایک دن ملتان میں مولانامنہاج الدین کی مسجد میں آپ نافع کامطالعہ کررہے تھے کہ قطب ہندحضرت خواجہ بختیارکاکی وہاں پہنچے ۔ حضرت کے ملکوتی تبسم اورروحانی جلال نے بابافریدپرلرزہ طاری کردیا ۔ بابافریدجان چکے تھے کہ ان کی نگاہِ کیمیاء ہی ان کی روحانی منازل کاسبب بنے گی ۔ جب باباجی نے اس بات کا اظہارکیاتوحضرت قطب نے فرمایاکہ پہلے اللہ کی تخلیق کردہ دنیاکامشاہدہ کرواوردیکھوکہ کون کس مقام پرکیاکررہاہے پھردہلی آنا ۔ آپ نے اپنی والدہ قرسم خاتون کوجاکرساراواقعہ سنایاتوآپ بہت خوش ہوئیں ۔ اس طرح باباجی کوبغدادجانے کے لیے اجازت مرحمت فرمائی ۔ قطبِ ہندحضرت خواجہ بختیارکاکی کے حکم کے پیشِ نظرآپ نے ظاہری علوم کے لیے بغدادکارُخ کیا ۔ بخارا میں آپ کی ملاقات اجل شیرازی بغداد میں حضرت شہاب الدین سہروردی،سیستان میں حضرت اوحدالدین کرمانی اوربدخشاں میں حضرت عبدالواحد سے ملاقات کی اورعلوم روحانی میں وہ فیوض برکات حاصل ہوئیں جن کی جھلک ساری زندگی آپ کے علم وعمل میں نظرآتی رہیں ۔ چشت میں حضرت یوسف چشتی کے مزارپرحاضری دینے کے بعدآپ ہندوستان لوٹے ۔ اپنی والدہ سے عرصہ بعدملاقات کرنے کے بعداجازت لیتے ہوئے قطبِ ہندکے حکم کی تکمیل میں دہلی کی طرف روانہ ہوئے ۔ حضرت بختیارکاکی کی کیمیائی نظراورروحانی تصرف سے آپ نے وہ بلندیاں حاصل کیں جوصرف خاصان کوہی حاصل ہوسکتی ہیں ۔ جب ایک دفعہ سلطانِ ہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اپنے مریدحضرت قطب بختیارکاکی کے پاس دہلی آئے توبابافریدکودیکھ کرفرمایا:’’قطب،تم اس شہبازکوزیردام لائے ہوجس کا آشیانہ آسمان کی انتہائی بلندیوں پرہے ۔ ‘‘

حضرت قطب الدین نے بابافریدجیسے گوہرنایاب کوتراشنے کاسلسلہ شروع کیا ۔ سب سے پہلے آپ نے بابافریدکو’’طے‘‘کاروزہ رکھنے کاحکم دیا ۔ (طے کاروزہ تیسرے دن مغرب کے وقت افطارکیاجاتاہے ۔ )افطاری والے دن ایک شخص حصول نیت کے لیے آپ کے لیے افطاری کاکھانالے کرآیا ۔ جب بابافریدنے وہ کھاناکھایاتوآپ کے معدہ نے اس کوقبول نہ کیا اورقے آنے لگیں ۔ طے کاروزہ اوراوپرسے قے کے آنے سے باباجی کوبہت کمزوری ہوگئی ۔ حضرت قطب الدین تشریف لائے اورفرمایاکہ جوشخص کھانالے کرآیاوہ ایک شرابی تھا ۔ اس لیے وہ خوراک آپ کے لیے جائزنہیں تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پرکرم فرمایا اورقے سے وہ سب کچھ آپ کے جسم سے نکل گیاجس میں حرام کاشائبہ تھا ۔ اب آپ ایک اورطے کاروزہ رکھیں اورجب تک غیب سے کوئی انتظام نہ ہوآپ کچھ نہیں کھائیں گے ۔ تیسرے دن آپ پرشدیدنقاہت طاری تھی ۔ آپ غیب سے کھانے کا انتظارفرمارہے تھے کہ مغرب کاوقت ہوگیا ۔ آپ نے پانی سے روزہ افطارکیا اورغیب سے اشیائے خوردونوش کا انتظارکرنے لگے ۔ چھ دن مسلسل بھوک اورنقاہت سے آپ پر بے ہوشی کی سی کیفیت تھی لیکن آپ انتظارکرتے رہے ۔ بشری تقاضوں سے مجبورہوکرآپ نے زمین پرہاتھ ماراجوکچھ کنکریوں پرلگا آپ نے حالتِ اضطراب میں ان کومنہ میں رکھ لیا،جیسے ہی آپ نے ان کومنہ میں رکھاتووہ شکر میں تبدیل ہوگئے ۔ آپ نے ان کوتھوک دیا،دومرتبہ مزیدایساہوا،آخرآپ نے ان کوعالم غیب سے مدداورتحفہ سمجھ کرنگل لیا ۔ حضرت قطب الدین کواس واقعہ پربہت خوش ہوکران کامریدِ خاص کثافت سے نکل کرلطافت کے لبادے میں داخل ہوگیا ہے جہاں پردائمی حلاوت اورشیرینی انسان کامقدرہوتی ہے ۔ اسی واقعہ کی بناء پرآپ کوگنج شکربھی کہتے ہیں ۔ کچھ لوگ گنج شکرکے لقب کوآپ کے بچپن کے واقعہ کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ قرسم خاتون باباجی کواوائل عمری میں نمازکی ترغیب دینے کے لیے آپ کی جائے نمازکے نیچے شکرکی پڑیارکھ دیاکرتی تھیں ۔ ایک دفعہ آپ کسی مصروفیت کی وجہ سے یہ کرنے سے قاصررہیں توغیب سے آپ کے لیے وہاں پڑیاموجودتھی جوپہلی شکرسے زیادی میٹھی اورمزیدارتھی ۔ لقب کی وجہ کوئی بھی ہو،یہ بات مسلم ہے کہ بابافرید کی کرامات کاسلسلہ بچپن سے ہی شروع ہوگیاتھا ۔

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی،ارادت ہوتودیکھ ان کو

یدِ بیضالیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

حضرت قطب بختیارکاکی کے وصال کے وقت آپ ان کے پاس نہیں تھے لیکن بحکم قطب ان کاخرقہ خلافت آپ کوعطاکیاگیا ۔ آپ چنددن دہلی میں گزارنے کے بعداجودھن تشریف لے گئے اورخلق خداکی راہ نمائی فرمانے لگے ۔ ایک دن ایک گوالن دودھ لے کرگزررہی تھی،بابافرید کے بلانے پروہ آپ کی جھونپڑی کے پاس آئی اورباتوں باتوں میں جادوگروں کاذکرکیاجن کووہ روزانہ دودھ دینے جایاکرتی تھی ۔ دراصل وہ گوالن بیوہ تھی اوردودھ بیچ کراپنے بچوں کاپیٹ پالاکرتی تھی،وہ جادوگریاجوگیوں کاٹولہ اُسے دھمکایاکرتاتھاکہ اگرتم نے ان کودودھ نہ دیاتوتمہاری گائے مرجائیں گی اورپھروہ اس مظلوم عورت پرظلم ڈھائیں گے اوراس کے بچوں کونقصان پہنچائیں گے ۔ ایک دن عورت دودھ دینے نہ گئی تواس کے برتنوں میں جوگیوں کے جادوکی وجہ سے کیڑے پڑگئے ۔ اب وہ عورت روزانہ بغیرمعاوضہ کے ان کودودھ دینے جاتی تھی ۔ بابافریدنے اس عورت کووہیں بیٹھنے کاحکم دیا،جب زیادہ دیرہوگئی اورجوگی کودودھ ملنے میں دیرہوئی تواس نے اپنے چیلوں کوعورت کاپتہ کرنے بھیجا ۔ جب انہوں نے اس عورت کوراستے میں بابافریدکے جھونپڑی کے باہربیٹھے دیکھاتوغضب ناک لہجے میں دیرکرنے اوروہاں بیٹھے رہنے کی وجہ پوچھی ۔ باباجی نے حکماًان کوبھی بیٹھنے کاکہا،ایک دوسری ٹولی آئی توباباجی نے ان چیلوں کوبھی بیٹھنے کاحکم صادرفرمایا ۔ سب بغیرحیل وحجت کے اس بارعب شخصیت کوحیرت سے دیکھتے ہوئے ایسے بیٹھ گئے جیسے کوئی غیرمرئی قوت ان کوایساکرنے پرمجبورکررہی ہو ۔ آخر میں ان چیلوں کاسرداربھی وہاں آن پہنچا اورنہایت تکبرانہ انداز میں کہنے لگاکہ اس کے چیلوں کویہاں کیوں بٹھارکھاہے ۔ باباجی نے فرمایاکہ وہ اب قیدکرلیے گئے ہیں ۔ اس نے باباجی پرمنترپڑھنے شروع کردیے لیکن اس کی تمام کوششیں فضول رہیں ۔ ہرطرف سے بے یارومددگاراس نے باباجی کے سامنے سرجھکادیا اوراپنے چیلوں کی رہائی کی درخواست کرنے لگا ۔ باباجی نے اس کواس کے چیلوں سمیت اجودھن چھوڑنے کاحکم دیا ۔ اجودھن کے لوگوں نے سکھ کاسانس لیا اورباباجی کی اس کرامت کی دھوم قرب وجوار میں پھیلنے سے سینکڑوں بت پرستوں نے اسلام قبول کیا ۔

ایک دفعہ باباجی حالتِ بیماری میں چھڑی کے سہارے چل رہے تھے،کچھ مریدین بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔ اچانک آپ رکے اوآپ کے چہرے کارنگ بدل گیا،آپ نے فوراًچھڑی پھینک دی اورفرمایا مجھے ایک لمحے کے لیے خیال آیاتھاکہ میں چھڑی کے سہارے چل رہاتھاحالانکہ انسان کے لیے اللہ کاسہاراہی کافی ہوتاہے ۔ بعد میں آپ بڑی دیرتک بغیرسہارے کے چہل قدمی کرتے رہے ۔

باباجی کاحلقہ ارادت دن بدن بڑھتاجارہاتھا اورروزانہ بہت سارے لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہورہے تھے ۔ اجودھن کاحاکم باباجی کوبہت ناپسندکرتاتھا،وہ مختلف حیلوں بہانوں سے آپ کوگزندپہنچانے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا ۔ حتیٰ کہ اس نے آپ کے گیارہ سالہ بیٹے کوشہیدکروادیا ۔ باباجی پردکھ کے پہاڑٹوٹ پڑے ۔ بعدازتدفین آپ کے مریدین اورخاندان کے کچھ افرادنے حاکم کے بارے بددعاکرنے کاکہا لیکن باباجی صبرواستقامت کاپہاڑتھے جس میں لرزش اورلغزش کی گنجائش موجودنہیں تھی ۔ اپنے آقاصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت اوراسوہ پرعمل کرتے ہوئے آپ نے بددعاسے انکارکردیا اورصبروشکرکے لبادہ کوگردآلودنہ ہونے دیا ۔ جس طرح انسان حواس خمسہ رکھتاہے اسی طرح درویش کے لیے پانچ عناصرِ خمسہ(ریاضت،صبر،قناعت،توکل اورخدمت انسانی) ہیں جن پربلاجوں وچراعمل کیے بغیرکوئی بندہ درویش کی حقیقی منزل کونہ پہچان سکتاہے اورنہ صحیح معنوں میں درویش کہلاسکتاہے ۔ حضرت باباجی ان سب عناصرپرسختی سے کاربندتھے ۔ والدہ کی جدائی کاکرب،بیٹے کی شہادت،چلہ کشی میں استقامت،دنیاوی سہولیات سے کنارہ کشی اورفقروفاقہ میں مستی آپ کی وہ خوبیاں تھیں جس کی وجہ سے اجودھن کاعلاقہ کفروشرک سے پاک ہوکرپاک پتن کہلایا اورباباجی کوشہرت دوام نصیب ہوئی ۔ ظاہری طورپرآپ ایک خوب صورت شخصیت کے مالک تھے ۔ آپکے چہرے کے نقش ونگاربہت خوب صورت تھے ۔ درازقامت اورچہرے میں ایسی کشش تھی کہ جوبھی آپ کودیکھتاوہ آپ کاہی ہوکررہ جاتاتھا لیکن مسلسل فاقہ کشی اورچلوں کی وجہ سے آپ کاجسم لاغروکمزوربھی تھاجس کوآپ ایک چادرسے ڈھانپ کررکھتے تھے ۔ آپ کے کپڑے پرپیوندلگے ہوتے ،اپنے عصامبارک سے تکیے کاکام لیتے تھے ۔ انتہائی سادہ خوراک جومقدار میں انتہائی کم ہوتی اس سے گزارہ کرتے ۔ اکثرروزہ سے ہوتے اورشربت جس میں کچھ منقے ڈالے ہوتے اسی سے افطارکرنے پراکتفاکرلیتے تھے اوروہ شربت بھی آپ اکثرتقسیم فرمادیاکرتے لیکن یہ خرقہ پوش چشتی سلسلہ کے وہ روشن ماہتاب تھے جن کی روشنی کبھی بھی ماندنہیں پڑے گی ۔ حضرت جمال الدین ہانسوی،حضرت فصیح الدین،حضرت صابر کلیرشریف والے اورحضرت نظام الدین اولیاء کاشماران بزرگوں میں ہوتاہے جنہوں نے باباجی سے فیضِ روحانی حاصل کرکے لوگوں تک پہنچانے کاسلسلہ جاری رکھا ۔

آپ666ھ میں 5محرم کو اس دارِ فانی سے کوچ فرماگئے لیکن آج بھی پاک پتن شریف میں ہزاروں لاکھوں عقیدت مندوں کاہجوم گواہی دیتاہے کہ ان کاروحانی تصرف کاسلسلہ بغیرکسی وقفہ کے آج بھی جاری ہے ۔ آپ فرمایاکرتے تھے کہ جوخودسے ڈرے اس سے ڈرو اورنفسِ شیطانی انسان کاسب سے بڑادشمن ہے جس کسی نے اس کاکہاماناسمجھووہ دین اوردنیادونوں سے گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “پڑھیئے،محمدضیاء الرحمن کی تحریر: حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ علیہ از(خرقہ پوش)

  1. پروفیسر محمد ضیاء الرحمان کا کالم بہت اعلی تحریر ھےـــ
    اللہ مزید لکھنے لی توفیق دے آمین

  2. سبحان اللہ اللہ آپکو اور توفیق دے تھوڑی اور تحقیق کریں اور باب جنت کے بارے میں بھی لکھیں اور سب سے بڑ کر یہ بتائیں کہ ہم آ ج کہاں ہیں انکی تعلیمات سے کتنے قریب یا دور

تبصرے بند ہیں