کیاشوہراپنی بیوی کی میت کوغسل دے سکتاہے؟نیزبیوی کیلئے کیاحکم ہے؟

*ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جو بات صحیح اورکتاب و سنت سے ثابت ہو، عموماً اس کی پرواہ نہیں کی جاتی، جبکہ اسکے برعکس خاندانی رسم و رواج اور خود ساختہ مسائل کو کہیں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کوانتہائی معیوب گردانا جاتاہے*

*اسی قسم کے خود ساختہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کی میّت کو ، یا شوہر اپنی بیوی کی میّت کونہ ہاتھ لگا سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ غسل دے سکتا ہے اور نہ اسے قبر میں اتار سکتا ہے*

*اس کی بنیاد یہ گھڑی گئی ہے کہ موت سے شوہر اور بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوجاتے ہیں*

*حالانکہ متعدد احادیث و آثار سے ثابت ہےکہ زوجین میں سے ایک کی وفات کے بعد، ان میں سے زندہ شخص میّت کو ہاتھ لگانا اور دیکھنا تو درکنار، شوہر فوت شدہ بیوی کو اور بیوی فوت شدہ شوہر کو غسل تک دے سکتی ہے*

*درج ذیل احادیث ملاحظہ کریں:*

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں:
“ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے قریب بیٹھے تھے، تو میں نے دیکھا آپکی آنکھیں اشکبار تھیں”، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں سے کوئی ایسا ہے جس نے آج رات جماع نہ کیا ہو؟) تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “میں ہوں!” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(تو تم اترو!) انس کہتے ہیں: تو ابو طلحہ آپکی صاحبزادی کی قبر میں اترے”
(صحیح بخاری: حدیث نمبر_ (1285)
مزید کیلئے دیکھیں: “أحكام الجنائز ”
از: شیخ البانی مسئلہ نمبر: (99 )

*اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غیر محرم آدمی بھی فوت شدہ عورت کو ہاتھ لگا سکتا ہے،جیسے ابو طلحہ رض نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کو قبر میں اتارا،تو جب غیر محرم مرد ،عورت کی میت کو ہاتھ لگا سکتا ہے تو شوہر بیوی کی میت کو ہاتھ کیوں نہیں لگا سکتا؟؟؟*

*اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت مروی ہے جس سے اس فعل کی شرعی حیثیت ثابت ہوجاتی ہے،*

 عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،
رجَع إليَّ رسولُ اللهِ ﷺ ذاتَ يومٍ مِن جِنازةٍ بالبقيعِ وأنا أجِدُ صُدَاعًا في رأسي وأنا أقولُ: وارَأْسَاه قال: (بل أنا يا عائشةُ وارَأْسَاه)ثمَّ قال: (وما ضرَّكِ لو مِتِّ قبْلي فغسَلْتُكِ وكفَّنْتُكِوصلَّيْتُ عليكِ ثمَّ دفَنْتُكِ)؟ قُلْتُ: لَكأنِّي بكَ أنْ لو فعَلْتَ ذلك قد رجَعْتَ إلى بيتي فأعرَسْتَ فيه ببعضِ نسائِك فتبسَّم رسولُ اللهِ ﷺ ثمَّ بُدِئ في وجَعِه الَّذي مات فيه

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں