دنیا کا وہ واحد اسلامی ملک جس کے شہری اس بار بھی حج کی سعادت حاصل کرنے سے محروم رہے

دوحہ(ویب ڈیسک) دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اس وقت فریضہ حج کی ادائیگی میں مصروف ہیں لیکن قطر کے لوگ تیسرے سال بھی حج ادا نہیں کر سکے۔تفصیلات کے مطابق قطری عوام کیلئے حج اس لئے مشکل بنا دیا گیا ہے کہ انہیں براہ راست قطر سے سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں بلکہ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے راستے سعودی عرب جا سکتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطری حکام کو اپنے حجاج کیلئے انتظامات کرنے کیلئے بھی سعودی عرب نے اجازت نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب دوسرے تمام ممالک کو اپنے حجاج کی صحت، رہائش اور دیگر ضروریات کے انتظامات اور ان کا جائزہ لینے کی اجازت ہے لیکن قطر کو اس سہولت سے محروم کیا گیا ہے۔قطر اور قطر سے دوسرے ممالک کے پروزاوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں۔ زمینی راستے سے بھی قطریوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں ہے۔سفارتی ذرائع نے بھی کہا ہے کہ سعودی حکام کی پالیسیوں کی وجہ سے ہوٹل اور دیگر مقامات میں قطریوں کو ٹھہرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا جاتا ہے۔سعودی عرب نے کہا ہے کہ قطری کویت اور عمان کے راستے بغیر ویزوں کے جا سکتے ہیں لیکن قطر کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد قطری عوام کو اپنی حکومت کیخلاف اکسانے کی کوشش ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب، عرب امارات اور مصر نے 2017 میں قطر سے اختلافات کی وجہ سے سفارتی تعلقات توڑ کر ان پر پابندی عائی کی تھی۔ سعودی عرب میں موجود عازمین نے مناسک حج کا آغاز کردیا جس کے تحت منیٰ میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق اسلام کے چوتھے بنیادی رکن حج کے مناسک کا آغاز 8 ذوالحجہ جمعے سے شروع ہوگیا، اس ضمن میں شرعی طریقہ کار کے مطابق عازمین مکہ سے پانچ کلومیٹر دو منی پہنچ گئے جہاں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی لگائی گئی ہے۔لبیک الھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے تقریباً 20 لاکھ کے قریب عازمین میں سے 18 لاکھ کا تعلق بیرونِ ممالک سے ہے، سعودی عرب میں چاند کے حساب سے ذوالحجہ کی 8 تاریخ جمعے کو شروع ہوئی۔آٹھ ذوالحج کو یوم الترویہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس کا مقصد عازمین منا میں پانی پیتے، اپنی سواریوں اور کپڑوں کو دھوتے ہیں۔عازمین منا میں رات قیام کے بعد 9 ذوالحج کو عرفات میں جمع ہوں گے اور یہاں وہ حج کا رکن اعظم ادا کریں گے، میدانِ عرفات کو دنیا بھر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع کہا جاتا ہے۔ عازمین میدانِ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے جس کے بعد وہ نمرہ مسجد میں خطبہ حج سنیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں