ہندوﺅں نے بیف کھانا چھوڑ کر گائے کی پوجا کب اور کیوں شروع کی؟ وہ بات جو آپ کو معلوم نہیں ہو گی

آج گائے کی پوجا کرنے والے اور اس کے نام پرانسانوں کی جان لینے والے ہندو کبھی خود بھی گائے کی جان لینے میں عار محسوس نہیں کیا کرتے تھے اور قدیم ہندستان میں تو گائے کا گوشت کھانا ایک عام بات تھی،لیکن پھر کچھ خاص عوامل نے گائے کو مقدس

بنا دیا اور اس کی پوجا بھی کی جانے لگی۔یہ بات بیک وقت دلچسپ اور افسوسناک ہے کہ ہندﺅوں نے محض مادی وجوہا ت کی بنا پر گائے کی پرستش کا آغاز کر دیا اور اس کا گوشت کھانیوالوں کو قتل کرنیکی حد تک بڑھ گئے۔ قدیم بھارت میں گائے کا گوشت کھایا جاتا تھااور دیوتاﺅں کے سامنے اسے قربانی کے طور پر بھی پیش کیا جاتا تھا۔ ہندومت کی قدیم مذہبی کتب میں یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ گوشت کھانا کوئی گناہ نہیں ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہندومت کے عقائد میں تبدیلی آتی گئی اور وہی گائے جس کا کبھی گوشت کھایا جاتا تھا اس کی پوجا کی جانے لگی اور اسے ہندومذہب میں ماں کا درجہ دے کر گاﺅ ماتا کہا جا نے لگا۔ تاریخ دانوں کا کہناکہ اس کی وجہ بنیادی طور پر مادی ، مالی اور معاشی نوعیت کی ہے کیونکہ جب گائے کو مذہبی تہواروں پر ہلاک کرنا ، مہمانوں کی خدمت داری کیلئے اس کا گوشت استعمال کرنا اور گائے کا گوشت کھانا مہنگا ثابت ہونے لگا تو آہستہ آہستہ یہ رواج بڑھنے لگا کہ گائے کو ہلاک کرنے کو گناہ قرار دیدیا جائے ۔ قدیم ہندستان کے لوگ گائے سے دودھ حاصل کرتے ، اس کا مکھن استعمال کرتے اور اس کے گوبر سے اپلے بنا کر ایندھن کے طور پراستعمال کرتے تھے۔ لہذا آہستہ آہستہ انہیں احساس ہونے لگا کہ گائے کو ہلاک کرناان کے لیے مالی طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ سن عیسوی کے آغاز تک یہ روایت بھی پیدا ہوچکی تھی کہ گائے کو برہمن ذات کے مذہبی پیشواﺅں کو تحفے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا اور برہمن بھی نہیں چاہتے تھے کہ گائے کو ہلاک کرنے کا رواج زیادہ پھلے پھولے، لہٰذا مذہبی طورپر بھی یہ بات پھیلائی جانے لگی کہ گائے کو ہلاک کرنا گناہ کی بات اور ہندو مذہب کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ دسویں صدی عیسوی کے آغاز تک برہمنوں کی تعلیمات اور لوگوں کے اپنے معالی، ماشی اور سماجی مسائل کی وجہ سے گائے کو ہلاک کرنا ایک بہت بڑا گناہ قرار پا چکا تھا اور لوگوں نے اس کی اہمیت کو آہستہ آہستہ پوجا کی صورت میں تبدیل کرنا شروع کردیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نظریہ مقبول اور عام ہوتا گیا اور لوگ نہ صرف گائے کی پوجا کرنے لگے بلکہ اس کا گوشت کھانے والوں کو بھی سخت سزاﺅں کا نشانہ بنایا جانے لگا اور حتیٰ کہ انہیں قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ عام ہندو سمجھتا ہے کہ گائے اس کے لئے ماں کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی پوجا کرنا مذہبی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہندو برہمنوں کے ذاتی مفادات و خود غرضی، اور عام لوگوں کی غربت، معاشی مسائل اور تنگدستی ہی وہ عوامل تھے کہ جن کے نتیجے میں گائے کا گوشت کھانا چھوڑ کر اسے مقدس گاﺅ ماتا کا مقام دیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں