300 افراد کی آبادی پر محیط وہ گاوں جہاں پچھلے 9 سال سے کوئی لڑکا ہی پیدا نہ ہوا

وارسا  (ویب ڈیسک) پولینڈ کے ایک گاؤں میں 9 سال سے بیٹا پیدا نہ ہونے پر حکومت کی طرف سے ایک آفر کی گئی ہے جس کے ہاں پہلے بیٹا پیدا ہو گا اسے انعام دیا جائے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی پولینڈ کے چھوٹے سے گاؤں میسکے آرزینسکے میں لڑکوں کی پیدائش کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور 9 سال سے گاؤں میں کوئی بھی بچہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ آبادی تقریباً 300 کے قریب باشندوں پر مشتمل ہے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور لڑکیوں کی ہے۔

دنیانیوز کے مطابق پولش گاؤں میں آخری بار جو لڑکا پیدا ہوا تھا اسکی عمر 12 برس ہے اور وہ اسی گاؤں میں رہتا ہے۔ گاؤں میں فائر بریگیڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پورے سٹاف میں صرف خواتین ہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں گاؤں میں آیا اور یہیں کی لڑکی سے شادی کی جسکے بعد میری 2 بیٹیاں ہیں اور خواہش ہے کہ بیٹا بھی ہو مگر اب یہ ایک نا ممکن سی بات لگ رہی ہے۔ہمارے پڑوسی گھر میں بھی 2 لڑکیاں ہی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ گاؤں کی خواتین میں بیٹا پیدا کرنیوالے جرثومے ہیں ہی نہیں۔

اُدھر گاؤں کے میئر فرسچکو کا کہنا ہے کہ ماضی میں لڑکوں کی پیدائش کی شرح کا ڈیٹا دیکھ رہے ہیں اور اس وجہ کا بھی پتہ لگا رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ گاؤں میں جس جوڑے کے ہاں بھی پہلا لڑکا پیدا ہو گا اسے انعام سے نوازا جائے گا۔ یہ تو نہیں بتا سکتا کہ انعام میں کیا ہو گا مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ انعام بہت اچھا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں