بھارت اورپاکستان کے نا اہل اورتوسیع پسندانہ حکمران طبقے نے اپنے سامراجی معاشی وفوجی مفادات کے تحفظ کیلئے ریاستی عوام اوربرصغیرکے انسانوں کو یرغمال بنارکھاہے،ڈاکٹرتوقیرگیلانی

کوٹلی (اے جے کے نیوز) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آزاد کشمیر گلگت بلتستان زون کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ جموں کشمیر پرگفتگو اور ثالثی کی پیشکش اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں امن اور ترقی کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا اوراگر عالمی برادری چاہے تومسئلہ جموں کشمیر ایک سیدھا سادھا اور آسانی سے حل ہو جانے والا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے نا اہل اور توسیع پسندانہ حکمران طبقے نے اپنی جعلی قومی اناءوں کی تسکین اور اپنے سامراجی معاشی و فوجی مفادات کے تحفظ کیلئے پونے دو کروڑ عوام کی ریاست اور برصغیر کے دو ارب سے زائد انسانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو پوائنٹ سکورنگ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے مسئلہ جموں کشمیر کے حل کیلئے بین الاقوامی برادری کی نگرانی میں سہہ فریقی سنجیدہ اور حتمی مزاکرات کا آغاز کرنا چاہیے اور ریاست جموں کشمیر کے تمام قدرتی راستوں کو کھولتے اور سیز فائر لائن کو بتدریج ختم کرتے ہوئے اپنی اپنی افواج کے ریاست سے مکمل اور بیک وقت انخلاء ٹائم ٹیبل مرتب کرنا چاہیے تا کہ پورے جنوبی ایشیا کے لوگ امن خوشحالی اور باہمی احترام کی بنیاد پر ایک نئے عہد کا آغاز کر سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان انتہائی آسانی سے امن ، دوستی اور محبت کا پل بن سکتی ہے اور بہتر سالہ نفرتوں ، دہشت گردی، سامراجی مفادات کی چوکیداری اور جنگ بازی سے پورے خطے کو نجات دلا سکتی ہے ۔ دریں اثنا شہید چوک کوٹلی میں لبریشن فرنٹ اور سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ سٹی کوٹلی کے زیر اہتمام بھارتی جیلوں میں پابند سلاسل چیرمین لبریشن فرنٹ محمد یسین ملک کی رہائی کیلئے نکالی گئی ایک مشعل بردار ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے زونل صدر نے بھارتی ریاستی دہشت گردی اور تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے بھارتی فوج کی طرف سے جاری ریاستی عوام کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یسین ملک کے خلاف بے بنیاد، جعلی، انتقامی اور جھوٹے مقدمات بنا کر تحریک آزادی کی سرکردہ قیادت کو ڈرانے دھمکانے اور راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاستی مشینری اپنی پوری طاقت لگا کر بھہ نہ تو یسین ملک کو جھکا سکتی ہے اور نہ ہی ریاست کے عوام کی قومی تحریک آزادی کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام اور قیادت سیاسی اور پرامن اندرونی مزاحمت کے ذریعے اپنے بنیادی حق کا مطالبہ کر رہی ہے اور بھارتی سرکار کی پوری کوشش ہے کہ وہ ریاست کے نوجوانوں کو تششد پر ابھار کر فوجی جبر اور انسانی نسل کشی کا بھونڈا جواز حاصل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت حکمرانوں کو اب تک یہ سمجھ جانا چاہیے کہ ریاست کے عوام ایک دن بھی بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور پوری ریاست ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے طور پر اپنی منقسم وحدت اور قومی شناخت کی بحالی چاہتی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی راہنما محمد یسین ملک سمیت تمام آزادی پسند راہنماءوں کو رہا کیا جائے، لبریشن فرنٹ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں پر پابندی کو ختم کرتے ہوئے بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ ملکر ریاست سے افواج کے انخلاء پر بات چیت کرے ۔ انہوں نے گلگت بلتستان کی زمینوں پر خیبر پختون خواہ حکومت اور افراد کے قبضے کی کوششوں اور مقامی افراد کے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہوئے اغواء کنندگان کی فوری بازیابی اورمقتدر قوتوں کی ایما پر گرفتار کیے گئے سیاسی کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر انجمن تاجراں ضلع کوٹلی کے صدر ملک محمد یعقوب اور لبریشن فرنٹ کے راہنما زبیر قریشی نے بھی خطاب کیا ۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں