عوام ہوشیار!فیس ایپ کسی صورت استعمال نہ کریں کیونکہ ۔ ۔ ۔

کراچی(ویب ڈیسک)حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر تہلکہ مچانے والی فیس ایپ سے متعلق بڑا سیکورٹی خطرہ سامنے آگیا۔ ایپ کے ذریعے تقریبا پندرہ کروڑ صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔روسی انجینئرز کی تیارکردہ نئی “فیس ایپ ” نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ اس ایپ کے ذرایعے کے صارف

کی تصویر سے اس کے چہرے کوجوان اوربوڑھا کیا جاسکتا ہے۔ اس ایپ کوجہاں صارفین میں بے حد پسند کیا جارہا ہے وہیں صارف ڈیٹا کی سیکورٹی پر بھی کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔امریکی بزنس جریدے کی رپورٹ کے مطابق اس ایپ کے زریعے کمپنی تقریبا پندرہ کروڑ صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرچکی ہے۔ فیس ایپ انسٹال کرنے پر صارف کمپنی کی تمام شرائط منظور کرتا ہے اور کمپنی کویہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ صارف کی تمام تصاویراور ذاتی معلومات استعما ل کرسکتی ہے۔ا س کے علاوہ اس ایپ کے ذریعے صارفین اپنی تصاویر نام کے ساتھ استعمال کرنے کی بھی اجازت دے رہے ہیں۔امریکی جریدے کے مطابق اب تک گوگل پلے سے دس کروڑ سے زائد لوگ اسے ڈاون لوڈ کرچکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی سینیٹر چک شومر نے ایف بی آئی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اس ایپ کو امریکی شہریوں کے لئے نجی خطرہ قرار دیا۔امریکی جریدے کے مطابق اب تک گوگل پلے سے دس کروڑ سے زائد لوگ اسے ڈاون لوڈ کرچکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی سینیٹر چک شومر نے ایف بی آئی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اس ایپ کو امریکی شہریوں کے لئے نجی خطرہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی اپنی یادداشت میں محفوظ ان تصاویر کو جب چاہے جس مقصد کیلئے چاہے استعمال کرسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپ میں محفوظ ڈیٹا کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر پروگرام کو چہرہ کی شناخت کی تربیت دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔امریکی ریاست نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر نے امریکا کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کو خطوط لکھ دیے ہیں جن میں ان اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ روس میں تیار ہونے والی اس ایپ کیخلاف تحقیقات کا آغاز کریں۔انہوں نے لکھا کہ یہ ایپ اسے استعمال کرنے والے صارفین کی تصاویر اپنے کلاؤڈ میں اپ لوڈ کرتی ہے اور صارفین سے ان کی نجی تصاویر اور ڈیٹا تک مکمل اور ناقابل تنسیخ رسائی کا تقاضہ کرتی ہے۔سینیٹر شومر نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہ ایپ ڈیٹا تک ناقابل تنسیخ رسائی کی وجہ سے قومی سلامتی اور کروڑوں امریکی شہریوں کی نجی زندگی کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔انہوں نے ایف ٹی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوئی راہ نکالے تاکہ امریکی شہری یہ ایپ استعمال نہ کرسکیں خاص طور پر سرکاری اور فوجی افسران اور اگر ایسا ممکن نہیں تو اس ایپ کے ساتھ جڑے سیکیورٹی خدشات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی مہم چلائی جائے۔خیال رہے کہ ان دنوں فیس ایپ انتہائی مقبول ہے، ہالی وڈ اور بالی وڈ شخصیات بھی اپنی بڑھاپے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کررہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں