دنیاکاایساملک جہاں صرف ایک مسجدہے

مالٹا(مانیٹرنگ ڈیسک )بحیرہ روم کے دل میں واقع ایک چھوٹاساجزیرہ مالٹاجہاں پرمسلمانوں کی صرف ایک مسجدہے۔عام طورپرخیال کیاجاتاہے کہ مالٹامیں اسلام کی ابتدا1870عیسوئی میں ہوئی ۔جب مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔مالٹا1091میں عیسائی یورپی اقتدارمیں واپس آگیا۔مسلمانوں کوتیرھویں صدی تک آزادانہ طورپرعبادت کی اجازت تھی۔مالٹامیں اس وقت مسلمانوں کی تعداد6ہزارہے۔جس میں بھاری اکثریت غیرملکیوں کی ہے۔عالمی اسلامی کال سوسائٹی کی طرف سے1978میں مالٹاکے شہرپاولامیں ایک مسجدقائم کی گئی۔جوملک کی واحدمسجدہے۔جس کانام مریم البتول جامع مسجدہے۔لیکن وہ ملک میں رہنے والے تمام مسلمانوں کی ضروریات کوپورانہیں کرسکتی۔کیونکہ لوگ مختلف جگہوں میں رہتے ہیں اورسب کاوہاں پہنچناممکن نہیں۔چنانچہ مسلمان ایک عرصے سے اس کوشش میں ہیں کہ انہیںمزیدجگہوں پرمسجدیں بنانے کی اجازت دی جائے۔لیکن ہربارحکومت کی جانب سے ان کی یہ درخواست رد کردی جاتی ہے۔حال ہی میں ان کی درخواست کوردکردیاگیاجس میں مسلمانوں نے اعراج کی ایک جگہ کوبطورمسجدلینے کی اجازت طلب کی تھی۔مالٹاکے مسلمان مسجدکی جگہ کے لیے دعااورکوشش کررہے ہیں۔تاکہ وہ اپنے مذہبی فریضہ نماز کواطمینان کے ساتھ اداکرسکیں۔اس وقت مسلمان کھلی جگہوں پرنمازوں اورخصوصاًنماز جمعہ کی ادائیگی کرتے ہیں۔لیکن زائدلوگ اورجگہ تنگ ہونے کی وجہ سے جمعہ کی نمازتین مرتبہ اداکرنی پڑ تی ہے۔مالٹامسلم کونسل کے شریک بانی اوررضاکاربدرزیناکاکہناہے کہ مسلمان کمیونٹی حکومت سے یہ توقع نہیں رکھتی کہ وہ مسلمانوں کوکسی مرکزی مقام پرنماز اداکرنے کی اجازت دےجس کے لیے ہم گزشتہ 18سال سے کوشش کررہے ہیں۔لیکن پھربھی ہم مسلمان حکومت کے مشکورہوں گے اگروہ مسجدکی جگہ فراہم کردے۔وہ تمام عطیات جومسجدکے لیے لوگو ں کی جانب سے دئیے گئے وہ ان درخواستوں میں لگ گئے جوبارہامسجدکے لیے دیتے رہےاورانہیں نظراندازکیاجاتارہاان کاکہناہے کہ مسجدکے لیے سہولیات کی اشدضرورت ہےان کاکہناتھاکہ کونسل چاہتی ہے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظرمختلف جگہوں پرانہیں نماز کی جگہیں فراہم کی جائیں۔تاکہ وہ اپنی مذہبی عبادت کوباقاعدگی اوراطمینان کے ساتھ اداکرسکیں۔مالٹامیں دیگرمذاہب کے بہت سے لوگ آبادہیں جواپنے مذہبی فرائض آزادانہ اداکرتے ہیں۔ان کواجازت ہے کہ وہ اپنی یاکرائے کی جگہ کوعبادت کے لیے استعمال کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں