پڑھیئے،سردارساران خالق کاکالم،خاموش مسافر

# روکھی سوکھی کھاتے ہیں بولتے نہیں ۔سڑکوں پہ گڑے پڑنے کی وجہ سے مہرے سلپ ہوتے ہیں بولتے نہیں، اس معاشرے کی باعزت عورتیں بیماری کے عالم میں ان سڑکوں کے تکلیف دہ سفر سے چیختی چلاتی ہیں اور بعض راستے میں اللہ کو پیاری ہو جاتی ہیں، بعض کی ڈیلیوری راستے میں لیکن ہم بولیں گے نہیں، پانی کے لیے دور دراز ہماری مائیں ،بہنیں اور بیٹیاں جاتی ہیں ہم بولیں گے نہیں ،عدالتوں کے باہر غریب لوگوں کا جمِ غفیر تاریخ پھر تاریخ ذلت رسوائی ہم بولیں گے نہیں ،پڑھے لکھے بچوں کو میرٹ نہیں مل رہا اُنکی عمریں ڈھل رہی ہم بولیں گے نہیں، کوئی سڑکوں پر کالا تیل پھینک کر چلا جائے ہم بولیں گے نہیں اور ستم ظریفی یہ کہ جو بولے گا اُسکے خلاف کمر بستہ ہو جائیں گے ،ہاسپیٹل میں ڈسپرین کی گولی نہیں ہم بولیں گے نہیں ، سیاستدانوں کے بچے رشتہ دار اعلی پوسٹوں پر جائیں گے ہم بولیں گے نہیں، بلکہ مبارکباد دیں گے کہ بڑے باپ کا بیٹا بیٹی رشتہ دار ہے یہ ان کا حق ہے، تھانے میں پیسوں کے بغیر پرچہ نہیں ہوگا ہم بولیں گے نہیں ،بجلی دس دن گم رہے ٹراسفارمر جل جائے بولیں گے نہیں اور جو بولے گا ہم کہیں گے سیاست کر رہا ہے۔ نوجوان نسل آنکھوں کے سامنے منشیات جیسی لعنت میں مبتلا ہو گئی ہم بولیں گے نہیں اور جو بولے گا ہم کہیں گے اس کو کیا تکلیف ہے ،معاشرے میں سفاکانہ انداز میں قتل کر کے لاش جلا دی جائے ہم غلط نہیں کہیں گے بلکہ خود ہی جج بن کر فیصلہ دیں گے کہ یہ بہت اچھا کیا اور اگر کوئی اس قتل پر اپنے ایمان کے زور پر آواز اٹھائے گا تو ہم کہیں گے کہ ووٹ لینے کی ہمدردی لینے کے لیے بولا ہے۔اپنے دل میں یا گھر میں جتنا بھی گند ہو اُسکو بھول کر دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے میں فخر محسوس کریں گے۔ ظلم دیکھ کر، ناانصافی دیکھ کر پہلے دیکھیں گے کہ یہ کس جماعت کا ہے اگر اپنی جماعت کا ہوا تو پہلی بات مکمل سپورٹ کریں گے نہیں تو خاموشی سے منہ چھپاتے پھریں گے۔معاشرے کے اندر اگر کوئی فلاحی کام کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم منہ پر بہت اچھا بہت اچھا اور پیٹھ کے پیچھے ایسا پنڈورا باکس کھولیں گے کہ اللہ کی پناہ۔ اذان ہو گی لوٹا اٹھایا مسجد کی طرف اور جب گیٹ سے باہر نکلے تو مخالف کی ماں بہن غیبت کی صورت میں ایک کریں گے۔ قارئین یہ وہ سارے سچ ہیں جنہیں جھٹلانا کسی کے بس میں نہیں۔ ہم یہ پڑھیں گے لیکن ان بیماریوں کو روکنے کی کوشش کبھی نہیں کریں گے کیونکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہر کام دوسرا کرے اور ہم بیٹھ کر ہر بات سے کیڑے نکالتے رہیں اور اپنے آپ کو منفرد ثابت کرنے کی کوشش اس بنیاد پر کریں کہ لوگ کہیں کہ جناب بہت بڑے مدبر ہیں۔بھلائی اور مدد کا درس دیں گے لیکن اپنی جیب پر تالے لگا رکھیں گے اور جو آگے نکل کر دوسرے کی سپورٹ کی کوشش کرے گا اُس کو دکھاوے کا نام دے کر اچھے کام کی تعریف کے بجائے حوصلہ شکنی کی کوشش کریں گے۔ یہ ہمارا معاشرہ جسکی وجہ سے ہم دن بہ دن ریورس ہو رہے ہیں اور خود کو بیوقوف بنا رہے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔ ہم ہر طرف ٹھیکیداری کے جھرمٹ میں گھرے ہوئے ہیں سیاست کی ٹھیکیداری لیڈر کی غیرضرروی تعریف کی ٹھکیداری سوسائٹی میں خوامخواہ کی ٹھیکیداری۔ قارئین اسی ٹھیکیداری نے ہمیں کہی کا نہیں چھوڑا اور نہ ہی چھوڑے گی ہر طرف ناامیدی کا نشان ہے۔ ہاں! چند نوجوان ہیں جو بڑے باہمت انداز میں چل رہے ہیں اُن نوجوانو کے لیے عرض ہے کہ آپ جدوجہد جاری رکھیں آپ یقینی طور پر کامیاب ہوں گے کیونکہ جھوٹ جھوٹ ہے اس نے مٹنا ہوتا اور سچ سامنے آہی جاتا ہے کوشش کریں اس سوئی ہوئی قوم کو ایسے راستے پر ڈالیں جو راستہ اس دنیا پر بھی کامیابی دے گا اور یہاں سے جانے کے بعد بھی انشاءاللہ کامیابی ملے گی آج کی تحریر سمجھداروں کے لیے اچھا پیغام باقی غلاموں کے لیے تحریریں بھی کوئی اثر نہیں لاسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں