جڑواں بچے کیسے پیداہوتے ہیں؟کونساعمل جڑواں بچوں کی پیدائش یقینی بناتاہے؟

بچے کی خواہش ہر عورت کو ہوتی ہے اور اگر بچے جڑواں ہوں تو دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔کیاجڑواں بچے پیدا ہونے میں کسی خوراک کا کردار ہوتا ہے یا یہ مورثی ہے۔ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ جڑواں بچوں کے پیدا ہونے میں خاتون کی طرف سے آنے والے انڈے پر ہوتا ہے۔اگر یہ انڈہ دو حصوں میں تقسیم ہواور حمل ٹھہر جائے تو پیدا ہونے والے بچے شکل و صورت میں ایک جیسے ہوتے ہیں اور اگر خاتون کی بیضہ دانی میں دو انڈے ہوں اور حمل ہوتو پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کی شکلیں نہیں ملتیں۔جڑواں بچوں کی پیدائش کا انحصار مورثی بھی ہے،کہا جاتا ہے کہ افریقی نژاد امریکیوں میں جڑواں بچوں کی شرح پیدائش زیادہ ہے جبکہ ایشیائی خواتین میں یہ شرح سب سے کم ہے۔آئیے آپ کو ایسی باتیں بتاتے ہیں جن پر عمل کرکے آپ بھی جڑواں بچوں کی خواہش پوری کرسکتے ہیں۔ایسی خواتین جن کی عمریں زیادہ ہوں ان میں بچوں کے جڑواں ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔حال ہی میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین کا بی ایم آئی(باڈی ماس انڈیکس)30یا اس سے زائد ہوتو ان کے گھر بھی جڑواں بچے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ڈیری مصنوعات کا استعمال زیادہ کرنے سے بھی جڑواں بچے پیدا ہونے کے امکانات بڑھتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک افریقی شہر جہاں جڑواں بچے زیادہ ہوتے وہاں لوگ ڈیری کی مصنوعات کے ساتھ وائلڈیمز(شمالی امریکہ میں پیدا ہونے والاآلو کی ایک قسم)زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو خواتین بچے کو دودھ پلانے کے دوران حاملہ ہوئیں ان میں جڑواں بچے پیدا ہونے کے امکانات ان خواتین سے زیادہ تھے جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے مانع حمل استعمال کرنے والی گولیاں جب خواتین چھوڑتی ہیں تو ان کی بیضہ دانی سے ایک سے زیادہ انڈے نکل سکتے ہیں اور اس دوران حمل ہونے کی صورت میں جڑواں بچے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ورلڈ میٹرولوجیکل وآرگنائیزیشن کے مطابق 2018 میں عالمی درجہ حرارت میں 0.98 سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے جس کی بنا پر ممکن ہے کہ 2018 چوتھا سب سے گرم ترین سال قرار دیا جائے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں