پڑھیئے نجمہ ظہورکاکالم،جعلی پیراور ہمارا معاشرہ

اگر تاریخ اسلام پر نظر ڈالی جائے تو تصوف کی تاریخ پیروں ،فقیروں اور والیوں جیسے برگزندہ لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ اللہ پاک کے ان برگزندہ بندوں نے ہر دور میں اشاعت اسلام کے ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود تمام برائیوں کے خاتمےکے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اللہ پاک نے پیروں فقیروں سے بہت کام لیا ہے۔پیری مریدی سماج کا حصہ ہے یہ کام کئی صدیوں سے چلا آرہا ہےبرصغیر پاک و ہند میں خانقاہی نظام موجود ہے۔خانقاہیں اور درسگاہیں معاشرے کے سدھاراور مذہبی بیداری میں اہم کردار داد کرتی تھیں۔ ایسے لوگ سماج میں مثبت رویوں کی تشکیل کرتے تھے۔جب معاشرے کے بگڑے ہوئے لوگ ان عظیم ہستیوں کے پاس آتے تھے تو ان کی اصلاح ایسے ہوتی تھی کہ وہ بگڑے ہوئے لوگ نیکیاں کرنے والے برائیوں سے بچنے والے اور تہجد گزار بن جاتے تھے۔ لیکن افسوس کہ آج اس مقدس مشن کو پامال کیا جا رہا ہے دولت بٹوارنے اور دنیا کے اغراض و مقاصد کے لیے جعلی پیروں فقیروں نے اس مقدس مشن کو بدنام کر دیا ہے سادہ لوح عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے ان جاہلوں کے حکم پر چلتے ہیں جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہےاور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ لوگ اپنی جان مال اور عزت سے ہاتھ دھو بھٹتے ہیں سادہ لوح عوام کی وجہ سے ان جعلی پیروں عاملوں کے آستانے آباد ہیں ان میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے جو اپنے مسائل کا ہر حل جعلی پیروں سے ڈھونڈتی ہیں اور عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں۔ اسلام میں تو غیر محرم کو دیکھنا بھی جائزہ نہیں ہےپھر عورت کا ہاتھ پکڑ کر یا اس کو پاس بیھٹا کر سر پر ہاتھ رکھ کر دم کرنا کون سے اسلام میں ہے۔ایسا کرنے والے پیر فقر نہیں بلکہ یہ معاشرے کا ناسور ہیں یہ لوگ بے ضمیر لالچی اور ہوس پرست ہوتے ہیں جو معصوم لوگوں کے ایمان سے کھیلتے ہیں اور انہیں گمراہ کرتے ہیں ان کا کام صرف دولت کمانا ہوتا ہے ایسے کاموں کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسے جعلی ساز پیروں کہ چنگل میں صرف سادہ لوح عوام ہی نہیں پھنسے ہوئے ہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ خواتین و حضرات، معروف سیاستدان، سرکاری افسران اور نامور شخصیات بھی شامل ہوتیں ہیں جو صبح شام ان کا درشن کرنا ضروری سمھجتے ہیں۔عوام اپنے مسائل کا حل جادو ٹونے تعویذ گھنڈے اور جھاڑوں کو سمھجتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ مخلوق خدا کی بربادی اور نقصان کا اہتمام کرنےوالا انسان کیونکر صوفی، ولی یا پیر ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا آج کل سچائی کی جگہ جھوٹ اور روحانیت کی جگہ لالچ اور ہوس نے لے لی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہے ایسے معاشرے کی اصلاح بہت ضروری ہے اورمعاشرے کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ علماء و مشائح اور مذہبی سکالز اپنا اپنا کردار ادا کریں تاکہ توہم پرستی کا خاتمہ کیا جا سکے اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں