آزادکشمیر میں 13 ویں آئینی ترمیم کے بعدآزادکشمیرہائیکورٹ میں دائر دومختلف رٹ پٹیشنزسماعت کیلئے منظور

میرپور(اے جے کے نیوز) آزاد کشمیر میں 13ویں آئینی ترمیم کے بعد آزاد حکومت کو حاصل شدہ محکمہ انلینڈ ریونیو میں تاحال چیف کمشنر انلینڈ ریونیو اور محتسب ٹیکس آزاد کشمیر کی عدم تعیناتی اور ایف بی آر کی طرز پر آزاد کشمیر سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے تخلیق وقیام نہ ہونے کےخلاف آزاد جموں وکشمیر ہائیکورٹ میں دائردو مختلف رٹ پٹیشنز کو سماعت کیلئے منظور کر لیا گیا جبکہ غیر قانونی و غیر آئینی ٹیکس ریکوری کے نوٹسز کو معطل کر تے ہوئے ہائیکورٹ نے حکم امتناعی بھی جاری کر دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں 13ویں آئینی ترمیم کے بعد ماضی میں آزاد جموں وکشمیر کو نسل کے ماتحت محکمہ انلینڈ ریونیو کے اختیارات کی حکومت آزاد کشمیر کو منتقلی کے ایک سال بعد بھی چیف کمشنر انلینڈ ریونیو اور محتسب ٹیکس آزاد جموں وکشمیر کی عدم تعیناتی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرز پر آزاد جموں وکشمیر سنٹرل بورڈ آف ریونیو کی عدم تخلیق وقیام عمل میں نہ لایا جاسکا ۔ جس کےخلاف آزاد جموں وکشمیر ہائیکورٹ میرپور سرکٹ میں د و الگ الگ رٹ پیٹشنز عنوانی عبدالواحد نیازی بنام آزاد حکومت وغیرہ اور محمد جہانگیر وغیر ہ بنام آزاد حکومت وغیرہ آزاد کشمیر کے معروف قانون دان قاضی عدنان قیوم نے دائر کی ہیں جنھیں سماعت کیلئے منظور کر لیا گیا ہے جبکہ آزاد کشمیر میں غیر قانونی و غیر آئینی طور پر ٹیکس ریکوری کے نوٹسز کی محکمہ انلینڈ ریونیو کی طرف سے اجرائیگی کو بھی ہائیکورٹ نے معطل کرتے ہوئے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے اور دونوں رٹ پٹیشنز میں آئندہ تاریخ سماعت 22-07-19مقرر کرتے ہوئے حکومت آزاد کشمیر ، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری قانون ، سیکرٹری مالیات ، کمشنر انلینڈ ریونیو اور ڈپٹی کمشنر انلینڈ ریونیو کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں ۔ معروف قانون دان قاضی عدنان قیوم نے رٹ پٹیشنوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ 13ویں آئینی ترمیم کے بعد محکمہ انلینڈ ریونیو کے تمام اختیارات حکومت آزاد کشمیر کو منتقل ہونے کے باوجود ایک سال بعد بھی آزاد خطہ میں ایف بی آر کی طر ز پر سنٹرل بورڈ ریونیو کی تخلیق کرتے ہوئے قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا اور نہ ہی چیف کمشنر انلینڈ ریونیو اور محتسب ٹیکس آزاد کشمیر کی آسامیوں پر تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں جس سے ٹیکس گزاروں کو بہت سی مشکلات اور شکایات کا سامنا ہونے سے کئی مسائل جہنم لے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ مروجہ قانون وآئین کےخلاف محکمہ انلینڈ ریونیو کے آفیسر ان ٹیکس گزاروں کو نوٹسز جاری کر کے ذہنی ومالی نقصان بھی پہنچا رہے ہیں جس کا ازالہ اور آئین وقانون کی عملداری انتہائی ضروری ہے اور چیف کمشنر انلینڈ ریونیو و محتسب ٹیکس آزاد جموں وکشمیر کی تعیناتیاں اور سنٹر ل بورڈ آف ریونیو کی تخلیق وقیام عمل میں لانا آئین وقانون کے عین مطابق ہوگا جس سے ٹیکس گزاروں کو بھی ضروری ریلیف ملنے اور آئین وقانون کی عملداری ہونے سے عوام کو فوری اور سستا انصاف بھی جلد فراہم ہونے کے مواقع مہیا ہونگے ۔ یاد رہے کہ پاکستا ن میں اسٹیبلشمنٹ آف فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈنینس 2000ء کے تحت وفاقی سطح پر محتسب ٹیکس تعینات ہے جس کی تعیناتی کا اختیار صدر پاکستان کو حاصل ہے جو ٹیکس گزاروں کو بے جا ہراساں کرنے ،غیر قانونی و بدیانتی وبد انتظامی پرمبنی کارروائیوں میں ملوث آفیسران محکمہ انلینڈ ریونیو کےخلاف شکایات سننے اور اُن کےخلاف مناسب تادیبی کارروائی کیلئے احکامات جاری کرنے کےساتھ توہین عدالت کے مکمل اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں اور انلینڈ ریونیو کے جملہ آفیسران محتسب ٹیکس کو جوابدہ بھی ہوتے ہیں ۔ جبکہ محتسب ٹیکس ہائیکورٹ کے جج، ریٹائرڈ جج یا گریڈ 22کے حاضر یا ریٹائرڈ آفیسر جو انکم ٹیکس کے معاملات میں مہارت رکھتا ہو کی تعیناتی عمل میں لائی جانی ضروری ہے دریں اثنا ء چیف کمشنر انلینڈ ریونیو کو انکم ٹیکس آرڈنینس 2001ء کے تحت انلینڈ ریونیو آفیسران کو اختیارات کی تقسیم ، فنگشنز تحت قانون اقدامات اور خصوصی اپیلوں کی سماعت کے اختیارات بھی حاصل ہیں علاوہ ازیں سنٹرل بورڈ آف ریونیو کی عدم موجودگی میں ماتحت آفیسران کے تبادلہ جات کا اختیارات بھی حاصل ہے یہ بھی یاد رہے کہ ماضی میں کشمیر کونسل کے تحت محکمہ انلینڈ ریونیو میں چیف کمشنر اور محتسب ٹیکس کی بھی تعیناتی عمل میں نہ لائی جاسکی جس باعث کشمیر کونسل سمیت محکمہ انلینڈ ریونیوکی ’’شتر بے مہا ر‘‘ بیورو کریسی احتسابی عمل سے مبرا رہی اور اب تک اربوں روپے کی میگا کرپشن کی کہانیاں بھی زبان زدہ عام ہو کر کئی انکواریاں سرخ فیتے کی نذر ہیں جبکہ اب 13آئینی ترمیم کے بعد محکمہ انلینڈ ریونیو حکومت آزاد کشمیر کو منتقل ہونے کے ایک سال بعد بھی ان دوبڑے عہدوں پر تعیناتیاں عمل میں نہیں لا سکی ہیں جس کے نتیجہ میں ماضی میں کشمیر کونسل میں جاری میگا کرپشن کا لا متناعی سلسلہ آزاد حکومت سے بھی نہ رُوک سکا ہے اور کشمیر کونسل اور محکمہ انلینڈ ریونیو میں تعینات کرپٹ بیورو کریسی نے اب پھر ’’چھوٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ کو لگی ہوئی ‘‘ کے مصداق انلینڈ ریونیو کے تمام اختیارات 14ویں آئینی ترمیم کے ذریعے دوبارہ حاصل کرنے کیلئے’’ سر دھڑ کی بازی‘‘ لگا رکھی ہے ۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں